فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 10

فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 10 وہ مخالف قرآن نہ ہو۔" پھر سنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ " امام اعظم علیہ الرحمۃ نے رفع یدین پر کیوں عمل نہ کیا۔ کیا اس وقت حدیث کے راوی نہ تھے۔ راوی تو تھے مگر چونکہ یہ سنت اس وقت ان کو نظر نہ آئی اس لئے انہوں نے عمل نہیں کیا۔ مولویوں کی بد قسمتی ہے کہ یہود و نصاری محرف و مبدل تو ریت کو لئے پھرتے ہیں اور یہ بجائے قرآن کے حدیثوں کو لئے پھرتے ہیں ۔" اخبار بدر نمبر 3 جلد 1 مؤرخہ 14 نومبر 1902ء صفحہ (19) حدیث فرمایا:۔ ایک اور غلطی اکثر مسلمانوں کے درمیان ہے کہ وہ حدیث کو قرآن شریف پر مقدم کرتے ہیں حالانکہ یہ غلط بات ہے۔ قرآن شریف ایک یقینی مرتبہ رکھتا ہے اور حدیث کا مرتبہ ظنی ہے۔ حدیث قاضی نہیں بلکہ قرآن اس پر قاضی ہے۔ ہاں حدیث قرآن شریف کی تشریح ہے۔ اس کو اپنے مرتبہ پر رکھنا چاہئے ۔ حدیث کو اس حد تک ماننا ضروری ہے کہ قرآن شریف کے مخالف نہ پڑے اور اس کے مطابق ہو۔ لیکن اگر اس کے مخالف پڑے تو وہ حدیث نہیں بلکہ مردود قول ہے۔ لیکن قرآن شریف کے سمجھنے صلى الله عليه وسلم کے واسطے حدیث ضروری ہے۔ قرآن شریف میں جو احکام الہی نازل ہوئے ۔ آنحضرت علی نے) ان کو عملی رنگ میں کر کے اور کرا کے دکھا دیا اور ایک نمونہ قائم کر دیا۔ اگر یہ نمونہ نہ ہوتا تو اسلام سمجھ میں: میں نہ آ سکتا۔ لیکن اصل قرآن ہے۔ بعض اہل کشف آنحضرت علیم اللہ سے براہ راست ایسی سے حدیثیں سنتے ہیں جو دوسروں کو معلوم نہیں ہوئیں یا موجودہ احادیث کی تصدیق کر لیتے ہیں ۔ " فرمایا:۔ )4 الحکم نمبر 21 جلد 10 مؤرخہ 17 جون 1906ء صفحہ( {(۸) مقلد و غیر مقلد } اس میں کیا شک ہے کہ مدار نجات و رضا مندی حضرت باری عزاسمه اتباع رسول الله عليه و الله ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ لیکن اس دوسری