فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 206 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 206

فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لیتے اکاسی روپے کا ہیں کیا یہ جائز ہے؟ فرمایا:۔ 206 " جن معاملات بیع و شراء میں مقدمات نہ ہوں ۔ فساد نہ ہوں ۔ تراضی فریقین ہو اور سرکار نے بھی جرم نہ رکھا ہو۔ عرف میں جائز ہو۔ وہ جائز ہے۔" الحکم نمبر 29 جلد 7 مؤرخہ 10 اگست 1903ء صفحہ 19) (۲۶۸) غلہ ارزاں خرید کر روک رکھنا کسی نے پوچھا کہ بعض آدمی غلہ کی تجارت کرتے ہیں اور خرید کر اسے رکھ چھوڑتے ہیں۔ جب مہنگا ہو جاوے تو اسے بیچتے ہیں کیا ایسی تجارت جائز ہے؟ فرمایا :۔ " اس کو مکروہ سمجھا گیا ہے۔ میں اس کو پسند نہیں کرتا۔ میرے نز اس کو پسند نہیں کرتا۔ میرے نزدیک شریعت اور ہے اور طریقت اور ہے۔ ایک آن کی بد نیتی بھی جائز نہیں اور یہ ایک قسم کی بد نیتی ہے۔ ہماری غرض یہ ہے کہ بد نیتی دور ہو۔" الحکم نمبر 39 جلد 9 مورخہ 10 نومبر 1905ء صفحه (5) (۲۶۹) سود اور ایمان ایک نے سوال کیا کہ ضرورت پر سودی روپیہ لے کر تجارت وغیرہ کرنے کا کیا حکم ہے؟ فرمایا:۔ "حرام ہے۔ ہاں اگر کسی دوست اور تعارف کی جگہ سے روپیہ لیا جاوے اور کوئی وعدہ اس کو زیادہ دینے کا نہ ہو۔ نہ اس کے دل میں زیادہ لینے کا خیال ہو پھر اگر مقروض اصل سے کچھ زیادہ دیدے تو وہ سود نہیں ہوتا بلکہ یہ تو هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَان ہے۔" اس پر ایک صاحب نے سوال کیا کہ اگر ضرورت سخت ہو اور سوائے سود کے کام نہ چل سکے تو پھر؟ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔ " خدا تعالیٰ نے اس کی حرمت مومنوں کے واسطے مقر واسطے مقرر کی ہے اور مومن وہ ہوتا ہے جو ایمان پر قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ اس کا متولی اور متکفل ہوتا ہے۔ اسلام میں کروڑ ہا ایسے آدمی گزرے ہیں جنہوں نے نہ سود لیا نہ دیا آخران کے حوائج بھی پورے ہوتے رہے کہ نہ ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ لو نہ دو، جو ایسا کرتا