فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 201
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 201 فرمایا:۔ (۲۵۹)رف کے ساتھ اعلان شادی " دف کے ساتھ شادی کا اعلان کرنا بھی اسی لئے ضروری ہے کہ آئندہ اگر جھگڑا ہو تو ایسا اعلان بطور گواہ ہو جاتا ہے ایسا ہی اگر کوئی شخص نسبت اور ناطہ پر شکر وغیرہ اس لئے تقسیم کرتا ہے کہ وہ ناطہ پکا ہو جاوے تو گناہ نہیں ہے لیکن اگر یہ خیال نہ ہو بلکہ اس سے مقصد صرف اپنی شہرت اور شیخی ہو تو پھر یہ جائز نہیں ہوتے۔" الحکم نمبر 14 جلد 7 مورخہ 17 را پریل 1903ء صفحہ (2) فرمایا:۔ (۲۶۰) گانا " اس طرح پر سب اعمال کا حال ہے۔ اگر ان کی اصلیت کا لحاظ اور مغز کا خیال نہ ہو تو وہ ایک رسم اور عادت رہ جاتی ہے۔ اس طرح روزہ میں خدا کے واسطے نفس کو پاک رکھنا ضروری ہے لیکن اگر حقیقت نہ ہو تو پھر یہ رسم ہی رہ جاتی ہے۔ یقیناً یا درکھو کہ جو خدا تعالیٰ کے فضل پر خوش نہیں ہوتا اور اس کا عملی اظہار نہیں کرتے وہ مخلص نہیں ہے۔ میرے خیال میں اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کے فضل پر سال بھر تک گا تا رہے تو وہ سال بھر ماتم کرنے والے سے اچھا ہے ۔ جو امور قَالَ اللهُ وَ قَالَ الرَّسُولُ کے خلاف ہوں یا ان میں شرک یا ریا ہو اور ان میں اپنی شیخی دکھائی جاوے وہ امور اثم میں داخل ہیں اور منع ہیں ۔" (الحکم نمبر 14 جلد 7 مؤرخہ 17 اپریل 1903ء صفحه (2) (۲۶۱) راگ سوال:۔ ذکر آیا کہ بعض بزرگ راگ سنتے ہیں ۔ آیا یہ جائز ہے؟ جواب: فرمایا:۔ " اس طرح بزرگان دین پر بدظنی کرنا اچھا نہیں حسن ظن سے کام لینا چاہئے ۔ حدیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت یا اللہ نے بھی اشعار سنے تھے۔ لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ