فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 199
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 199 (۲۵۵) سید زادی سے نکاح ایک شخص نے حضرت صاحب کی خدمت میں سوال پیش کیا کہ غیر سید کو سیدانی سے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا:۔ " اللہ تعالیٰ نے نکاح کے واسطے جو محرمات بیان کئے ہیں ان میں کہیں یہ نہیں لکھا کہ مومن کے واسطے سید زادی حرام ہے۔ علاوہ ازیں نکاح کے واسطے طیبات کو تلاش کرنا چاہئے اور اس لحاظ سے سید زادی کا ہونا بشرطیکہ تقویٰ و طہارت کے لوازمات اس میں ہوں افضل ہے۔ " حضرت مولوی نورالدین صاحب نے فرمایا کہ سید کا لفظ اولاد حسین کے واسطے ہمارے ملک میں ہی خاص ہے، ورنہ عرب میں بزرگوں کو سید کہتے ہیں ۔ حضرت ابوبکر ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان حسب سید ہی تھے اور حضرت علی کی ایک لڑکی حضرت عمرؓ کے گھر میں تھی اور حضرت رسول کریم علی یا اللہ کی ایک لڑکی حضرت عثمان سے سب عليه بیاہی گئی تھی اور اس کی وفات کے بعد پھر دوسری لڑکی بھی حضرت عثمان سے بیاہی گئی تھی ۔ بس اس عمل سے یہ مسئلہ بآسانی حل ہو سکتا ہے۔ جاہلوں کے درمیان یہ بات مشہور ہے کہ امتی سیدانی کے ساتھ نکاح نہ کرے حالانکہ اُمتی میں تو ہر ایک مومن شامل ہے خواہ وہ سید ہو یا غیر سید ۔" اخبار بدر نمبر 7 جلد 6 مؤرخہ 14 فروری 1907 ء صفحه (4) (۲۵۶) ناجائز وعدہ نکاح کو توڑنا ایک شخص کی درخواست پیش ہوئی کہ میری ہمشیرہ کی منگنی مدت سے ایک غیر احمدی کے ساتھ ہو چکی ہے۔ اب اس کو قائم رکھنا چاہئے یا نہیں؟ فرمایا:۔ " ناجائز وعدہ کو توڑنا اور اصلاح کرنا ضروری ہے۔ آنحضرت علیم اللہ نے قسم کھائی تھی کہ شہد نہ کھائیں گے۔ خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ ایسی قسم کو توڑ دیا جاوے۔ علاوہ ازیں منگنی تو ہوتی ہی اسی لئے ہے کہ اس عرصہ میں تمام حسن و فتح معلوم ہو جاویں۔ منگنی نکاح نہیں ہے کہ اس کا توڑ نا گناہ ہو۔" وقبح نا ہو۔" اخبار بدر نمبر 26 جلد 6 مورخہ 27 جون 1907ء صفحه (7) (۲۵۷) غیر کفو میں نکاح ایک دوست کا سوال پیش ہوا کہ ایک احمدی اپنی ایک لڑکی غیر کفو کے ایک احمدی کے ہاں دینا