فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 187
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 187 " اب جب کہ طلاق کی ایسی صورت ہے کہ اس میں خاوند خاوند نہیں رہتا اور نہ عورت اس کی عورت رہتی ہے اور عورت ایسی جدا ہو جاتی ہے کہ جیسے ایک خراب شدہ عضو کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے تو ذرہ سوچنا چاہئے کہ طلاق کو نیوگ سے کیا مناسبت ہے۔ طلاق تو اس حالت کا نام ہے کہ جب عورت سے بیزار ہو کر بکلی قطع تعلق اس سے کیا جائے۔ مگر نیوگ میں تو خاوند بدستور خاوند ہی رہتا ہے اور نکاح بھی بدستور نکاح ہی کہلاتا ہے اور جو شخص اس غیر عورت سے ہمبستر ہوتا ہے اس کا نکاح اس عورت سے نہیں ہوتا اور اگر یہ کہو کہ مسلمان بے وجہ بھی عورتوں کو طلاق دے دیتے ہیں تو تمہیں معلوم ہے کہ ایشر نے مسلمانوں کو لغو کام کرنے سے منع کیا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ۔ اور قرآن میں بے وجہ طلاق دینے والوں کو بہت ہی ڈرایا ہے۔ ماسوا اس کے تم اس بات کو بھی تو ذرا سوچو کہ مسلمان اپنی حیثیت کے موافق بہت سا مال خرچ کر کے ایک عورت سے شادی کرتے ہیں اور ایک رقم کثیر عورت کے مہر کی ان کے ذمہ ہوتی ہے اور بعضوں کے مہر کئی ہزار اور بعض کے ایک لاکھ یا کئی لاکھ ہوتے ہیں اور یہ مہر عورت کا حق ہوتا ہے اور طلاق کے وقت بہر حال اس کا اختیار ہوتا ہے کہ وصول کرے اور نیز قرآن میں یہ حکم ہے کہ اگر عورت کو طلاق دی جائے تو جس قدر مال عورت کو طلاق سے پہلے دیا گیا ہے وہ عورت کا ہی رہے گا اور اگر عورت صاحب اولا د ہو تو بچوں کے تعہد کی مشکلات اس کے علاوہ ہیں ۔ اسی واسطے کوئی مسلمان جب تک اس کی جان پر ہی عورت کی وجہ سے کوئی وبال نہ پڑے تب تک طلاق کا نام نہیں لیتا۔ بھلا کون ایسا پاگل ہے کہ بے وجہ اس قدر تباہی کا بوجھ اپنے سر پر ڈال لے۔ بہر حال جب مرد اور عورت کے تعلقات نکاح با ہم باقی نہ رہے تو پھر نیوگ کو اس سے کیا نسبت ۔ جس میں عین نکاح کی حالت میں ایک شخص کی عورت دوسرے شخص سے ہمبستر ہو سکتی ہے۔ پھر طلاق مسلمانوں سے کچھ خاص بھی نہیں بلکہ ہر یک قوم میں بشرطیکہ دیوث نہ ہوں ، نکاح کا معاہدہ صرف عورت کی نیک چلنی تک ہی محدود ہوتا ہے اور اگر عورت بد چلن ہو جائے تو ہر ایک قوم کے غیرتمند کو خواہ ہندو ہو خواہ عیسائی ہو بد چلن عورت سے علیحدہ ہونے کی ضرورت پڑتی ہے۔ مثلاً ایک آریہ کی عورت نے ایک چوہڑے سے ناجائز تعلق پیدا کر لیا ہے، چنانچہ بارہا اس نا پاک کام میں پکڑی بھی گئی۔ اب آپ ہی فتوی دو کہ اس آریہ کو کیا کرنا چاہئے ۔ کیا نکاح کا معاہدہ ٹوٹ گیا یا اب تک باقی