فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 183
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 183 تجھے اس سے کیا کام کیونکہ وہ جسم تو اسی وقت سے تیرا جسم نہیں رہا جب کہ تو نے اس کو کاٹ کر پھینک دیا۔" آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد 10 صفحه 37 تا 39 مطبوعہ نومبر 1984ء) ایک صاحب نے یہ سوال کیا کہ جو لوگ ایک ہی دفعہ تین طلاق لکھ دیتے ہیں ان کی وہ طلاق جائز ہوتی ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں فرمایا کہ:۔ " قرآن شریف کے فرمودہ کی رو سے تین طلاقیں دی گئی ہوں اور ان میں سے ہر ایک کے درمیان اتناہی وقفہ لکھا گیا جو قرآن شریف نے بتایا ہے تو ان تینوں کی عدت کے گزرنے کے بعد اس خاوند کا کوئی تعلق اس بیوی سے نہیں رہتا۔ ہاں اگر کوئی اور شخص اس عورت سے عدت گزرنے کے بعد نکاح کرے اور پھر اتفاقاً وہ اس کو طلاق دیدے تو اس خاوند اوّل کو جائز ہے کہ اس بیوی سے نکاح کر لے۔ مگر اگر دوسرا خاوند، خاوند اوّل کی خاطر سے یا لحاظ سے اس بیوی کو طلاق دے کہ تا وہ پہلا خاوند اس سے نکاح کرلے تو یہ حلالہ ہوتا ہے اور یہ حرام ہے۔ لیکن اگر تین طلاق ایک ہی وقت میں دی گئی ہوں تو اس خاوند کو یہ فائدہ دیا گیا ہے کہ وہ عدت کے گزرنے کے بعد بھی اس عو بعد بھی اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے کیونکہ یہ طلاق نا جائز طلاق تھا اور اللہ و رسول نا کے فرمان کے موافق نہ دیا گیا تھا۔ در اصل قرآن شریف میں غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو یہ امر نہایت ہی ناگوار ہے کہ پرانے تعلقات والے خاوند اور بیوی آپس کے تعلقات کو چھوڑ کر الگ الگ ہو جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے طلاق کے واسطے بڑے بڑے شرائط لگائے ہیں ۔ وقفہ کے بعد تین طلاق کا دینا اور ان کا ایک ہی جگہ رہنا وغیرہ یہ امور سب اس واسطے ہیں کہ شاید کسی وقت ان کے دلی رنج دور ہو کر آپس میں صلح ہو جاوے۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ کبھی کوئی قریبی رشتہ دار وغیرہ آپس میں لڑائی کرتے ہیں اور تازے جوش کے وقت میں حکام کے پاس عرضی پرچے لے کر آتے ہیں تو آخر دانا حکام اس وقت ان کو کہہ دیتے ہیں کہ ایک ہفتہ کے بعد آنا۔ اصل غرض ان کی صرف یہی ہوتی ہے کہ یہ آپس میں صلح کر لیں گے اور