فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 170
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام مکرر آتش بازی کے متعلق فرمایا کہ:۔ 170 " اس میں ایک جزو گندھک کا بھی ہوتا ہے اور گندھک وبائی ہو ا صاف کرتی ہے۔ چنانچہ آج کل طاعون کے ایام میں مثلاً انار بہت جلد ہوا کو صاف کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص صحیح نیست اصلاح ہوا کے واسطے ایسی آتش بازی جس سے کوئی خطرہ نقصان کا نہ ہو چلا وے تو ہم اس کو جائز سمجھتے ہیں ۔ مگر یہ شرط یہ اصلاح نیت کے ساتھ ہو کیونکہ تمام نتائج نیت پر مترتب ہوتے ہیں ۔ حدیث میں آیا ہے کہ صحابی نے گھر بنوایا اور آپ کو مجبور کیا کہ آپ اس میں قدم ڈالیں ۔ آپ نے اس مکان کو دیکھا۔ اس کے ایک طرف کھڑکی تھی ۔ آپ نے دریافت کیا یہ کس لئے بنائی ہے؟ اس نے عرض کیا کہ ٹھنڈی ہوا کے آنے کے واسطے ۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تو اذان سننے کے واسطے اس کی نیت رکھتا تو ہوا تو آہی جاتی اور تیری نیت کا ثواب بھی تجھے مل جاتا ۔ " فرمایا:۔ الحکم نمبر 15 جلد 7 مؤرخہ 24 را پریل 1903 ء صفحہ (10) "ہمارے دین میں دین کی بنا یسر پر ہے، عسر پر نہیں ۔ اور پھر إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ضروری چیز ہے۔ باجوں کا وجود آنحضرت علی یا اللہ کے زمانہ میں نہ تھا۔ اعلاج نکاح جس میں فسق و فجور نہ ہو عليه وسلم جائز ہے بلکہ بعض صورتوں میں ضروری شے ہے کیونکہ اکثر دفعہ نکاحوں کے متعلق مقدمات تک نوبت پہنچتی ہے اور پھر وراثت پر اثر پڑتا ہے۔ اس لئے اعلان کرنا ضروری ہے۔ مگر اس میں کوئی ایسا امر نہ ہو جو فسق و فجور کا موجب ہو۔ رنڈی کا تماشا، آتش بازی فسق و فجور اور اسراف ہے۔ یہ جائز نہیں ۔ " باجے کے ساتھ اعلان پر پوچھا گیا کہ جب برات لڑکے والوں کے گھر سے چلتی ہے کیا اسی وقت سے باجا بجتا جاوے یا نکاح کے بعد؟ فرمایا:۔ ایسے سوالات اور جزی در جزی نکالنا بے فائدہ ہے۔ اپنی نیت کو دیکھو کہ کیا ہے۔ اگر اپنی شان و شوکت دکھانا مقصود ہے تو فضول ہے اور اگر یہ غرض ہے کہ نکاح کا صرف اعلان ہو تو اگر گھر سے بھی باجا بجتا جاوے تو کچھ حرج نہیں ہے۔ اسلامی جنگوں میں بھی تو باجا بجتا ہے وہ بھی ایک اعلان ہی ہوتا ہے۔" الحکم نمبر 15 جلد 7 مؤرخہ 24 را پریل 1903ءصفحہ 1903ء صفحہ (10)