فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 144
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 144 چاہے تو اس کی رو سے ساری عمر بیٹھ کر ہی نماز پڑھتا ر ہے اور رمضان کے روزے بالکل نہ رکھے۔ مگر خدا اس کی نیت اور ارادہ کو جانتا ہے جو صدق اور اخلاص رکھتا ہے۔ خدا جانتا ہے کہ اس کے دل میں درد ہے اور خدا اسے اصل ثواب سے بھی زیادہ دیتا ہے کیونکہ درد دل ایک قابل قدر شے ہے۔ حیلہ جو انسان تاویلوں پر تکیہ کرتے ہیں لیکن خدا کے نزدیک یہ تکیہ کوئی شے نہیں ۔ " فرمایا:۔ الحکم نمبر 44 جلد 6 مؤرخہ 10 دسمبر 1902 ء صفحہ (9) (۱۹۵) تاثیرات روزه و حضرت مسیح موعود کا التزام صوم " ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک بزرگ معمر پاک صورت مجھ کو خواب میں دکھائی دیا اور اس نے یہ ذکر کر کے کہ کسی قدر روزے انوار سماوی کی پیشوائی کیلئے رکھنا سنت خاندان نبوت ہے، اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ میں اس سنت اہل بیت رسالت کو بجالاؤں۔ سو میں نے کچھ مدت تک التزام صوم کو مناسب سمجھا مگر ساتھ ہی یہ خیال آیا کہ اس امر کو مخفی طور پر بجالانا بہتر ہے۔ پس میں نے یہ طریق اختیار کیا کہ گھر سے مردانہ نشست گاہ میں اپنا کھانا منگوا تا اور پھر وہ کھانا پوشیدہ طور پر بعض یتیم بچوں کو، جن کو میں نے پہلے سے تجویز کر کے وقت پر حاضری کیلئے تاکید کر دی تھی ، دید یتا تھا اور اس طرح تمام دن روزہ میں گزارتا اور بجز خدا تعالیٰ کے ان روزوں کو کسی کو خبر نہ تھی اس قسم کے روزہ کے عجائبات میں سے جو میرے تجربہ میں آئے وہ لطیف مکاشفات ہیں جو اس زمانہ میں میرے پر کھلے۔ مکاشفات ہیں جو اس زمانہ میں میرے پر ہے۔ چنانچہ بعض گذشتہ نبیوں کی ملاقاتیں ہوئیں اور جو اعلیٰ طبقہ کے اولیاء اس امت میں گذر چکے ہیں ان ی جوال طبقہ کے اس امت میں چکے ہیں سے ملاقات ہوئی۔ ایک دفعہ عین بیداری کی حالت میں جناب رسول الله عليل الله کو مع حسنین و علی رضی اللہ عنہ و فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دیکھا اور یہ خواب نہ تھی بلکہ ایک بیداری کی قسم تھی ۔ غرض اسی طرح پر کئی مقدس لوگوں کی ملاقاتیں ہوئیں جن کا ذکر کرنا موجب تطویل ہے اور علاوہ اس کے انوار روحانی تمثیلی طور پر برنگ ستون سبز و سرخ ایسے دلکش و دلستاں طور پر نظر آتے تھے جن کا بیان کرنا بالکل طاقت تحریر سے باہر ہے۔ وہ نورانی ستون جو سیدھے آسمان کی طرف گئے ہوئے تھے جن میں سے بعض چمکدار سفید اور بعض سبز اور بعض سرخ تھے۔ ان کو دل سے ایسا تعلق تھا کہ ان کو دیکھ کر دل کو نہایت سرور پہنچتا تھا