فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 140
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 140 (۱۸۷) معلق مال کی زکوۃ ایک صاحب نے دریافت کیا کہ تجارت کا مال جو ہے جس میں بہت سا حصہ خریداروں کی طرف ہوتا ہے اور اگراہی میں پڑا ہوتا ہے اس پر زکوۃ ہے یا نہیں؟ فرمایا:۔ " جو مال معلق ہے اس پر زکوۃ نہیں جب تک کہ اپنے قبضہ میں نہ آ جائے لیکن تاجر کو چاہئے کہ حیلہ بہانہ سے زکوۃ کو نہ ٹال دے۔ آخر اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اخراجات بھی تو اسی مال میں سے برداشت کرتا ہے۔ تقویٰ کے ساتھ اپنے مال موجودہ اور معلق پر نگاہ ڈالے اور مناسب زکوۃ دے کر خدا تعالیٰ کو خوش کرتا رہے۔ بعض لوگ خدا کے ساتھ بھی حیلے بہانے کرتے ہیں یہ درست نہیں ہے۔" الحکم نمبر 25 جلد 11 مؤرخہ 17 جولائی 1907 ء صفحہ (12) فرمایا:۔ بعض عو دیتیں ۔" (۱۸۸) زیور کی زکوة بعض عورتیں زکوۃ دینے کے لائق ہیں اور بہت سا زیور ان کے پاس ہے مگر وہ زکوۃ نہیں اخبار بدر نمبر 31 جلد 2 مورخه 02 اگست 1906ء صفحه (12) بعض دوستوں کے استفسار پر حضرت اقدس نے زیور کی زکوۃ کے متعلق مفصلہ ذیل سطور لکھی ہیں ، جو تمام احباب کی اطلاع کیلئے شائع کی جاتی ہیں تا اس پر سب کا عمل درآمد ہو۔ "جو زیور پہنا جائے اور کبھی کبھی غریب عورتوں کو استعمال کیلئے دیا جائے بعض کا اس کی نسبت یہ " جو زیور پہنا جائے فتویٰ ہے کہ اس کی کچھ زکوۃ نہیں اور جو زیور پہنا جائے اور دوسروں کو استعمال کیلئے نہ دیا جائے اس میں زکوۃ دینا بہتر ہے کہ وہ اپنے نفس کیلئے مستعمل ہوتا ہے۔ اسی پر ہمارے گھر میں عمل کرتے ہیں اور ہر سال کے بعد اپنے موجودہ زیور کی زکوۃ دیتے ہیں اور جو زیور روپیہ کی طرح جمع رکھا جائے اس کی زکوۃ میں کسی کو بھی اختلاف نہیں ۔ " الحکم نمبر 40 جلد 9 مورخہ 17 رنومبر 1905ء صفحہ (11)