فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 137
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 137 فرمایا:۔ (۱۸۱) موانع حج " حج کا مانع صرف زاد راہ نہیں اور بہت سے امور ہیں جو عند اللہ حج نہ کرنے کیلئے عذر صحیح ہیں چنانچہ ان میں سے صحت کی حالت میں کچھ نقصان ہونا ہے۔ اور نیز ان میں سے وہ صورت ہے کہ جب آ راہ میں یا خود مکہ میں امن کی صورت نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً ۔ الله وسلم خدا فرماتا ہے کہ جہاں فتنہ ہو اس جگہ جانے سے پر ہیز کرو فتنہ کے دنوں میں حضرت علیل ہم نے کبھی حج نہیں کیا اور حدیث اور قرآن سے ثابت ہے کہ فتنہ کے مقامات میں جانے سے پر ہیز کرو مواضع فتن سے اپنے تئیں بچانا سنت انبیاء علیہم السلام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ - حج کرنا مشروط بشرائط ہے مگر فتنہ اور تہلکہ سے بچنے کیلئے قطعی حکم ہے جس کے ساتھ کوئی شرط نہیں ۔ " ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 416,415 مطبوعہ نومبر 1984ء) فرمایا:۔ (۱۸۲) جماعت کو وصیت " ہر ایک جو زکوۃ کے لائق ہے وہ زکوٰۃ دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔ نیکی کو سنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہو کر ترک کردو۔۔ چاہئے کہ زکوۃ دینے والا اسی جگہ اپنی زکوۃ بھیجے اور ہر ایک شخص فضولیوں سے اپنے تئیں بچاوے اور اس راہ میں وہ روپیہ لگاوے اور بہر حال صدق دکھاوے تا فضل اور روح القدس کا انعام پاوے۔" فرمایا:۔ کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 15 و و 83 مطبوعہ نومبر 1984ء) 1984 ء ) (۱۸۳) ہمسایہ فاقہ میں ہو تو شرعا حج جائز نہیں اگر کسی کا ہمسایہ فاقہ میں ہو تو اس کیلئے شرعا حج جائز نہیں مقدم ہمدردی اور اس کی خبر گیری ہے