فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 121

فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 121 جواب : " محض تذکرہ آنحضرت علیم اللہ کا عمدہ چیز ہے۔ اس سے محبت بڑھتی ہے اور آپ کی اتباع کیلئے تحریک ہوتی اور جوش پیدا ہوتا ہے۔ قرآن شریف میں بھی اسی لئے بعض تذکرے موجود ہیں جیسے فرمایا وَ اذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيم لیکن اگر تذکروں کے بیان میں بعض بدعات ملادی جائیں تو وہ حرام ہو جاتے ہیں۔ گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی یہ یا درکھو کہ اصل مقصد اسلام کا توحید ہے۔ مولود کی محفلیں کرنے والوں میں آج کل دیکھا جاتا ہے کہ بہت سی بدعات ملائی گئی ہیں ۔ جس نے ایک جائز اور موجب رحمت فعل کو خراب کر دیا ہے۔ آنحضرت علی یا اللہ کا تذکرہ موجب رحمت ہے۔ مگر غیر مشروع امور و بدعات منشاء الہی کے خلاف ہیں ۔ ہم خود اس امر کے مجاز نہیں ہیں کہ آپ کسی نئی شریعت کی بنیاد رکھیں اور آج کل یہی ہو رہا ہے کہ ہر شخص اپنے خیالات کے موافق شریعت کو بنانا چاہتا ہے گویا خود شریعت بناتا ہے۔ اس مسئلہ میں بھی افراط و تفریط سے کام لیا گیا ہے۔ بعض لوگ اپنی جہالت سے کہتے ہیں کہ آنحضرت علی یا اللہ کا تذکرہ عليه وسلم ہی حرام ہے یہ ان کی حماقت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ کے تذکرہ کو حرام کہنا بڑی بے باکی ہے جب کہ آنحضرت علیهم السلام کی سچی اتباع خدا تعالیٰ کا محبوب بنانے کا ذریعہ اور اصل باعث ہے اور اتباع کا جوش تذکرہ سے پیدا ہوتا اور اس کی تحریک ہوتی ہے۔ جو شخص کسی سے محبت کرتا ہے اس کا تذکرہ کرتا ہے۔ صلى عليه ہاں جو لوگ مولود کرتے وقت کھڑے ہوتے ۔ کھڑے ہوتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ آنحضرت علیه السلام ہی تشریف لے آئے ہیں یہ ان کی جرات ہے۔ ایسی مجلسیں جو کی جاتی ہیں ان میں بعض اوقات دیکھا جاتا ہے کہ کثرت سے ایسے لوگ شریک ہوتے ہیں جو تارک الصلوۃ سود خور اور شرابی ہوتے ہیں۔ حضرت ام کو ایسی مجلسوں سے کیا تعلق ؟ اور یہ لوگ محض ایک تماشا کے طور پر جمع ہو جاتے ہیں پس اس قسم کے خیال بے ہودہ ہیں۔ جو شخص خشک وہابی بنتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ کی عظمت کو دل عليه وسلم میں جگہ نہیں دیتا ہے وہ بے دین آدمی ہے۔ انبیاء علیہم السلام کا وجود بھی ایک بارش ہوتی ہے وہ اعلیٰ درجہ کا روشن وجود ہوتا ہے۔ خوبیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ دنیا کیلئے اس میں برکات ہوتے ہیں۔ اپنے جیسا سمجھ لینا نا ظلم ظلم ہے۔ اولیاء و انبیاء سے محبت رکھنے سے ایمانی قوت بڑھتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت علی یا اللہ نے فرمایا ہے کہ بہشت میں ایک اعلیٰ مقام ہوگا اور اس عليه وسلم