فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 91

فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 91 یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ خدا کا سنوارا ہوا بگڑتا نہیں مگر انسان کی بناوٹ بگڑ جاتی ہے۔ ہم گواہی دیتے ہیں اور اپنے تجربہ کی بنا پر گواہی دیتے ہیں کہ جب تک انسان اپنے اندر خدا تعالیٰ کی مرضی اور سنت نبوی کے موافق تبدیلی نہیں کرتا اور پاکیزگی کی راہ اختیار نہیں کرتا تو خواہ اس کے قلب سے ہی آواز آتی ہو وہ زہر جو انسان کی روحانیت کو ہلاک کر دیتی ہے دور نہیں ہو سکتی ۔ روحانیت کے نشو و نما اور زندگی کیلئے صرف ایک ہی ذریعہ خدا تعالیٰ نے رکھا ہے اور وہ اتباع رسول ہے جو لوگ قلب جاری ہونے کے شعبدے لئے پھرتے ہیں انہوں نے سنت نبوی کی سخت توہین کی ہے۔ کیا رسول الله علیه السلام سے بڑھ کر کوئی انسان دنیا میں گزرا ہے پھر غار میں بیٹھ کر وہ قلب جاری کرنے کی مشق کیا کرتے تھے یا فنا کا طریق آپ نے اختیار کیا ہوا تھا پھر آپ کی ساری زندگی میں کہیں اس امر کی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ آپ نے صحابہ کو یہ تعلیم دی ہو کہ تم قلب جاری کرنے کی مشق کرو اور کوئی ان قلب جاری والوں میں سے پتہ نہیں دیتا اور ں دیتا اور کبھی نہیں کہتا کہ رسول اللہ صلی اللہ کا بھی قلب جاری تھا۔ یہ تمام طریق جن کا قرآن شریف میں کوئی ذکر نہیں انسانی اختراع اور خیالات ہیں جن کا نتیجہ بھی کچھ نہیں ہوا ۔ قرآن شریف اگر کچھ بتاتا ہے تو یہ کہ خدا سے یوں محبت کرو۔ اَشَدُّ حُبًّا لِلہ کے مصداق بنو اور فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله پر عمل کرو اور ایسی فنا اتم تم پر آجاوے کہ تَبَتَّلَ إِلَيْهِ تَبْتِيلاً کے رنگ سے سے تم تم رنگین ہو جاؤ اور خدا تعالیٰ کو سب چیزوں پر مقدم کر لو ۔ یہ امور ہیں جن کے حصول کی ضرورت ہے۔ نادان انسان اپنے عقل اور خیال کے پیمانہ سے خدا کو نا پنا چاہتا ہے اور اپنی اختراع سے چاہتا ہے کہ اس سے تعلق پیدا کرے اور یہی ناممکن ہے۔ پس میری نصیحت یہی ہے کہ ان خیالات سے بالکل الگ رہو اور وہ طریق اختیار کرو جو خدا تعالیٰ کے رسول علیہم السلام نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور اپنے طرز عمل سے ثابت کر دکھایا کہ اسی پر چل کر انسان دنیا اور آخرت میں فلاح اور فوز حاصل کر سکتا ہے اور صحابہ کو جس کی تعلیم دی پھر وقتا فوقتا خدا کے برگزیدوں نے سنت جاریہ کی طرح اپنے اعمال سے ثابت کیا اور آج بھی خدا نے اسی کو پسند کیا۔ اگر خدا تعالیٰ کا اصل منشا یہی ہوتا تو ضرور تھا کہ آج بھی جب اس نے ایک سلسلہ گم شدہ صداقتوں اور حقائق کے زندہ کرنے کیلئے قائم کیا۔ یہی تعلیم دیتا اور میری تعلیم کا منتہا یہی ہوتا مگر تم دیکھتے ہو کہ خدا نے