فقہ المسیح — Page 552
فقه المسيح 552 جلسہ سالانہ کا انعقاد شملہ کی طرف دوڑتے جائیں تا دنیوی عزت حاصل کر لیں اور وہ سفر ممنوع اور حرام شمار نہ کیا جائے اور ایسا ہی بعض مولوی وعظ کا نام لے کر پیٹ بھرنے کے لئے مشرق اور مغرب کی طرف گھومتے پھریں اور وہ سفر جائے اعتراض نہ ہوا اور کوئی ان لوگوں پر بدعتی اور بداعمال اور مردود ہونے کے فتوے نہ دے مگر جبکہ یہ عاجز باذن وامرالہی دعوت حق کے لئے مامور ہو کر طلب علم کے لئے اپنی جماعت کے لوگوں کو بلاوے تو وہ سفر حرام ہو جائے اور یہ عاجز اس فعل کی وجہ سے مردود کہلاوے ۔ کیا یہ تقویٰ اور خدا ترسی کا طریق ہے۔ ہر زمانہ انتظامات جدیدہ کو چاہتا ہے افسوس کہ یہ نادان یہ بھی نہیں جانتے کہ تدبیر اور انتظام کو بدعات کی مد میں داخل نہیں کر سکتے ۔ ہر یک وقت اور زمانہ انتظامات جدیدہ کو چاہتا ہے۔ اگر مشکلات کی جدید صورتیں پیش آئیں تو بجز جدید طور کی تدبیروں کے اور ہم کیا کر سکتے ہیں۔ پس کیا یہ تدبیریں بدعات میں داخل ہو جائیں گی ۔ جب اصل سنت محفوظ ہو اور اسی کی حفاظت کیلئے بعض تدابیر کی ہمیں حاجت پڑے تو کیا وہ تدابیر بدعت کہلائیں گی معاذ اللہ ہر گز نہیں۔ بدعت وہ ہے جو اپنی حقیقت میں سنت نبویہ کے معارض اور نقیض واقع ہوں اور آثار نبویہ میں اس کام کے کرنے کے بارے میں زجر اور تہدید پائی جائے اور اگر صرف جدت انتظام اور نئی تدبیر پر بدعت کا نام رکھنا ہے تو پھر اسلام میں بدعتوں کو گنتے جاؤ کچھ شمار بھی ہے۔ علم صرف بھی بدعت ہوگا اور علم ہوگا اور علم نحو بھی اور علم کلام بھی اور حدیث کا لکھنا اور اس کا مبوب اور مرتب کرنا سب بدعات ہوں گے ۔ ایسا ہی ریل کی سواری میں چڑھنا، گلوں کا کپڑا پہننا، ڈاک میں خط ڈالنا ، تار کے ذریعہ سے کوئی خبر منگوانا اور بندوق اور توپوں سے لڑائی کرنا تمام یہ کام بدعات میں داخل ہوں گے بلکہ بندوق او اور توپوں سے لڑائی کرنا نہ صرف بدعت بلکہ ایک گناہ عظیم ٹھہرے گا کیونکہ ایک حدیث صحیح میں ہے کہ آگ کے عذاب سے کسی کو ہلاک کرنا سخت ممنوع ہے ۔ صحابہ سے زیادہ سنت کا متبع کون