فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 550 of 611

فقہ المسیح — Page 550

فقه المسيح 550 جلسہ سالانہ کا انعقاد الإِيْمَانِ وَبُغْضُ الْأَنْصَارِ مِنَ النِّفَاقِ یعنی انصار کی محبت ایمان کی نشانی اور انصار سے بغض رکھنا نفاق کی نشانی ہے۔ یہ ان انصار کے حق میں ہے جو مدینہ کے رہنے والے تھے نہ عام اور تمام انصار تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ جو اس زمانہ کے بعد انصار رسول اللہ ہوں ان سے بغض رکھنا جائز ہے۔ نہیں نہیں بلکہ یہ حدیث گو ایک خاص گروہ کے لئے فرمائی گئی مگر اپنے اند ر عموم کا فائدہ رکھتی ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں اکثر آیتیں خاص گروہ کے لئے نازل ہوئیں مگر ان کا مصداق عام قرار دیا گیا ہے۔ غرض ایسے لوگ جو مولوی کہلاتے ہیں انصار دین کے دشمن اور یہودیوں کے قدموں پر چل رہے ہیں مگر ہمارا یہ قول کلی نہیں ہے، راستباز علماء اس سے باہر ہیں ۔ صرف خاص مولویوں کی نسبت یہ لکھا گیا ہے ۔ ہر یک مسلمان کو دعا کرنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ جلد اسلام کو ان خائن مولویوں کے وجود سے رہائی بخشے کیونکہ اسلام پر اب ایک نازک وقت ہے اور یہ نادان دوست اسلام پر ٹھٹھا اور ہنسی کرانا چاہتے ہیں اور ایسی باتیں کرتے ہیں جو صریح ہر یک شخص کے نور قلب کو خلاف صداقت نظر آتی ہیں ۔ امام بخاری پر اللہ تعالیٰ رحمت کرے۔ انہوں ، اس بارے میں بھی اپنی کتاب میں ایک باب باندھا ہے ۔ چنانچہ وہ اس باب میں لکھتے ہیں ۔ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدِّثُوا النَّاسَ بِمَا يَعْرِفُونَ اتُحِبُّونَ أَنْ يُكَذَّبَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ اور بخاری کے حاشیہ میں اس کی شرح میں لکھا ہے أَيْ تَكَلَّمُوا النَّاسَ عَلَى قَدْرِ عُقُولِهِمْ یعنی لوگوں سے اللہ اور رسول کے فرمودہ کی وہ باتیں کرو جو اُن کو سمجھ جائیں اور ان کو معقول دکھائی دیں۔ خوانخواہ اللہ رسول کی تکذیب مت کراؤ۔ اب ظاہر ہے کہ جو مخالف اس بات کو سنے گا کہ مولوی صاحبوں نے یہ فتوی دیا ہے کہ بجز تین مسجدوں یا ایک دو اور محل کے اور کسی طرف سفر جائز نہیں۔ ایسا مخالف اسلام پر ہنسے گا اور شارع علیہ السّلام کی تعلیم میں نقص نکالنے کے لئے اس کو موقع ملے گا۔ اس کو یہ تو خبر نہیں ہوگی کہ کسی بخل کی بناء پر یہ صرف مولوی کی شرارت ہے یا اس کی بے وقوفی ہے وہ تو سیدھا ہمارے سید و مولے اعلی پر حملہ آور ہو گا جیسا کہ ہوگا نے ؟ صلى الله