فقہ المسیح — Page 476
فقه المسيح 476 متفرق آسمانی رزق ہے جیسا کہ بنی اسرائیل پر آسمان سے رزق اترا کرتا تھا۔ یہ بات خدا نے میرے دل میں ڈالی ہے۔ دل تو مانتا ہے کہ کچھ ہو نہار بات ہے۔ واللہ اعلم مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 299 ،300) بعض دفعہ قسم توڑ نا حسن اخلاق میں داخل ہوتا ہے خدا تعالیٰ نے اپنے اخلاق میں یہ داخل رکھا ہے کہ وہ وعید کی پیشگوئی کو توبہ واستغفار اور دعا اور صدقہ سے ٹال دیتا ہے اسی طرح انسان کو بھی اُس نے یہی اخلاق سکھائے ہیں جیسا کہ قرآن شریف اور حدیث سے یہ ثابت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت جو منافقین نے محض خباثت سے خلاف واقعہ تہمت لگائی تھی اس تذکرہ میں بعض سادہ لوح صحابہ بھی شریک ہو گئے تھے۔ ایک صحابی ایسے تھے کہ وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر سے دو وقتہ روٹی کھاتے تھے۔ حضرت ابو بکر نے ان کی اس خطا پر قسم کھائی تھی اور وعید کے طور پر عہد کر لیا تھا کہ میں اس بے جا حرکت کی سزا میں اس کو کبھی روٹی نہ دوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی تھی وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (النور:23) تب حضرت ابو بکر نے اپنے اس عہد کو توڑ دیا اور بدستور روٹی لگا دی۔ اسی بناء پر اسلامی اخلاق میں یہ داخل ہے کہ اگر وعید کے طور پر کوئی عہد کیا جائے تو اُس کا توڑ نا حسن اخلاق میں داخل ہے۔ مثلاً اگر کوئی اپنے خدمتگار کی نسبت قسم کھائے کہ میں اس کو ضرور پچاس جوتے ماروں گا تو اس کی توبہ اور تضرع پر معاف کرنا سنت اسلام ہے تا تخلق باخلاق الله ہو جائے مگر وعدہ کا تخلف جائز نہیں ترک وعدہ پر باز پرس ہو گی مگر ترک وعید پر نہیں ۔ ہوگی مگر (براہین احمدیہ حصہ پنجم ۔ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 181)