فقہ المسیح — Page 464
فقه المسيح 464 امور معاشرت ، رہن سہن ، باہمی تعاون سے رنگین رہتے تھے۔ گھنے اور کثرت سے نہ تھے بلکہ کم کم اور نہایت ملائم تھے۔ گردن تک لمبے تھے۔ آپ پ نہ سر منڈواتے تھے نہ حصہ تھے نہ خشخاش یا اس کے قریب کترواتے تھے بلکہ اتنے لمبے ر اتنے لمبے رکھتے تھے جیسے عام طور پر پٹے رکھے جاتے ہیں۔ سر میں تیل بھی ڈالتے تھے۔ چنبیلی یا حنا وغیرہ کا۔ یہ عادت تھی کہ بال سوکھے نہ رکھتے تھے۔ آپ کی داڑھی اچھی گھندار تھی ، بال مضبوط ، موٹے اور چمکدار سید ھے اور نرم ، حنا سے سرخ رنگے ہوئے تھے۔ داڑھی کو لمبا چھوڑ کر حجامت کے وقت فاضل آپ کتر وادیتے تھے یعنی بے ترتیب اور نا ہموار نہ رکھتے تھے بلکہ سیدھی نیچے کو اور برابر رکھتے تھے۔ داڑھی میں بھی ہمیشہ تیل لگایا کرتے تھے ۔ ایک دفعہ ایک پھنسی گال پر ہونے کی وجہ سے وہاں سے کچھ بال پورے بھی کتروائے تھے اور وہ تبرک کے طور پر لوگوں کے پاس اب تک موجود ہیں۔ ریش مبارک تینوں طرف چہرہ کے تھی اور بہت خوبصورت ۔ نہ اتنی کم کہ چھدری اور نہ صرف ٹھوڑھی پر ہو نہ اتنی کہ آنکھوں تک بال پہنچیں ۔ (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 413) حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب حضرت مسیح موعود کے کھانے پینے ،لباس اور بعض دیگر عادات مبارکہ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں : روٹی آپ تندوری اور چولہے کی دونوں قسم کی کھاتے تھے۔ ڈبل روٹی چائے کے ساتھ یا بسکٹ اور بکرم بھی استعمال فرمالیا کرتے تھے بلکہ ولائتی بسکٹوں کو بھی جائز فرماتے تھے اس لئے کہ ہمیں کیا معلوم کہ اس میں چربی ہے کیونکہ بنانے والوں کا ادعا تو مکھن ہے اور پھر ہم ناحق بدگمانی اور شکوک میں کیوں پڑیں۔ مکی کی روٹی بہت مدت آپ نے آخری عمر میں استعمال فرمائی کیونکہ آخری سات آٹھ سال سے آپ کو دستوں کی بیماری ہوگئی تھی اور ہضم کی طاقت کم ہو گئی تھی علاوہ ان روٹیوں کے آپ شیر مال کو بھی پسند فرماتے تھے اور باقر خانی اور قلچہ وغیرہ غرض جو جو ا