فقہ المسیح — Page 431
فقه المسيح 431 مخالفین کے ساتھ معاشرت کیسے کریں؟ امور معاشرت ، رہن سہن ، باہمی تعاون ایک صاحب نے سوال کیا کہ حضور مخالفوں سے جو ہمیں اور حضور کو سخت گالی گلوچ نکالتے ہیں اور سخت سست کہتے ہیں ان سے السلام علیکم لینا جائز ہے یا نہیں۔ فرمایا: مومن بڑا غیرت مند ہوتا ہے کیا غیرت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ تو گالیاں دیں اور تم ان سے السلام علیکم کرو؟ ہاں البتہ خرید و فروخت جائز ہے ۔ اس میں حرج نہیں کیونکہ قیمت دینی اور مال لینا کسی کا اس میں احسان نہیں ۔ کا حضرت خلیفہ المسح الثانی فرماتے ہیں: )14 احکام 10 راپریل 1903ء صفحہ( میرا اپنا طریق تو یہ ہے کہ سب کو السلام علیکم کہتا ہوں ہاں کوئی شقی جیسا کہ لیکھر ام تھا جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سلام نہیں کیا ۔ اگر ملے تو ممکن ہے کہ طبیعت رکے۔ عام لوگ با وجود دشمن ہونے کے دھو کہ خوردہ ہیں اور سلام کی دعا کے مستحق ۔ الفضل 21 اگست 1946ء صفحه (4) غیر تہذیب یافتہ لوگوں کیساتھ کیسے برتاؤ کیا جائے افریقہ سے ایک دوست نے بذریعہ تحریر حضرت اقدس سے دریافت کیا کہ اس جگہ کے اصلی باشندے مرد و زن بالکل ننگے رہتے ہیں اور معمولی خورونوش کی اشیاء کا لین دین ان کے ساتھ ہی ہوتا ہے تو کیا ایسے لوگوں سے ملنا جلنا گناہ تو نہیں؟ حضرت نے فرمایا: تم نے تو ان کو نہیں کہا کہ ننگے رہو وہ خود ہی ایسا کرتے ہیں۔ اس میں تم کو کیا گناہ؟ وہ ایسے ہی ہیں جیسے کہ ہمارے ملک میں بعض فقیر اور دیوانے ننگے پھرا کرتے ہیں۔ ہاں ایسے لوگوں کو کپڑے پہننے کی عادت ڈالنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ایسے ہی لوگوں کی نسبت یہ بھی سوال کیا گیا کہ چونکہ ملک افریقہ میں غریب لوگ بھی ہیں جو