فقہ المسیح — Page 236
فقه المسيح 236 <mark>قربانی</mark> کے مسائل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ( عربی عبارت سے ترجمہ ) میرا گمان ہے کہ یہ <mark>قربانی</mark>اں جو ہماری اس روشن شریعت میں ہوتی ہیں احاطہ شمار سے باہر ہیں۔اور ان کو اُن <mark>قربانی</mark>وں پر سبقت ہے کہ جو نبیوں کی پہلی امتوں کے لوگ کیا کرتے تھے اور <mark>قربانی</mark>وں کی کثرت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ ان کے خونوں سے زمین کا منہ چھپ گیا ہے۔یہاں تک کہ اگر اُن کے خون جمع کئے جائیں اور اُن کے جاری کرنے کا ارادہ کیا جائے تو البتہ ان سے نہریں جاری ہو جا ئیں اور دریا بہہ نکلیں اور زمین کے تمام نشیبوں اور وادیوں میں خون رواں ہونے لگے۔اور یہ کام ہمارے دین میں ان کاموں میں سے شمار کیا گیا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے قرب کا موجب ہوتے ہیں۔خطبہ الہامیہ۔روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 32-33) <mark>قربانی</mark> صرف صاحب استطاعت پر واجب ہے ایک شخص کا خط حضور کی خدمت میں پیش ہوا کہ میں نے تھوڑی سی رقم ایک <mark>قربانی</mark> میں حصہ کے طور پر ڈال دی تھی ، مگر اُن لوگوں نے مجھے احمدی ہونے کے سبب اس حصہ سے خارج کر دیا ہے۔کیا میں وہ رقم قادیان کے مسکین فنڈ میں دے دوں تو میری <mark>قربانی</mark> ہو جائے گی؟ فرمایا: <mark>قربانی</mark> تو <mark>قربانی</mark> کرنے سے ہی ہوتی ہے۔مسکین فنڈ میں روپے دینے سے نہیں ہوسکتی۔اگر وہ رقم کافی ہے تو ایک بکرا <mark>قربانی</mark> کرو۔اگر کم ہے اور زیادہ کی تم کو توفیق نہیں تو تم پر <mark>قربانی</mark> کا دینا فرض نہیں۔غیر احمدیوں کے ساتھ مل کر <mark>قربانی</mark> کرنا ( بدر 14 فروری 1907 ، صفحه 8 ایک شخص نے سوال کیا کہ کیا ہم غیر احمدیوں کے ساتھ مل کر یعنی تھوڑے تھوڑے روپے ڈال کر کوئی جانور مثلاً گائے ذبح کریں تو جائز ہے؟ فرمایا: