فقہ المسیح — Page 215
فقه المسيح 215 روزہ اور <mark>رمضان</mark> شوال کے چھ روزوں کا التزام حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جوانی کا ذکر فرمایا کرتے تھے کہ اس زمانہ میں مجھ کو معلوم ہوایا فرمایا اشارہ ہوا کہ اس راہ میں ترقی کرنے کے لئے روزے رکھنے بھی ضروری ہیں۔فرماتے تھے پھر میں نے چھ ماہ لگا تار روزے رکھے اور گھر میں یا با ہر کسی شخص کو معلوم نہ تھا کہ میں روزہ رکھتا ہوں۔صبح کا کھانا جب گھر سے آتا تھا تو میں کسی حاجتمند کو دے دیتا تھا اور شام کا خود کھا لیتا تھا۔میں نے حضرت والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ آخر عمر میں بھی آپ نفلی روزے رکھتے تھے یا نہیں؟ والدہ صاحبہ نے کہا کہ آخر عمر میں بھی آپ روزے رکھا کرتے تھے۔خصوصا شوال کے چھ روزے التزام کے ساتھ رکھتے تھے۔اور جب کبھی آپ کو کسی خاص کام کے متعلق دعا کرنا ہوتی تھی تو آپ روزہ رکھتے تھے۔ہاں مگر آخری دو تین سالوں میں بوجہ ضعف و کمزوری <mark>رمضان</mark> کے روزے بھی نہیں رکھ سکتے تھے۔(خاکسار عرض کرتا ہے کہ کتاب البریہ میں حضرت صاحب نے روزوں کا زمانہ آٹھ نو ماہ بیان کیا ہے۔) حضرت خلیہ البیع الثانی فرماتے ہیں:۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 14) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا کہ شوال کے مہینے میں عید کا دن گزرنے کے بعد چھ روزے رکھتے تھے۔اس طریق کا احیاء ہماری جماعت کا فرض ہے۔ایک دفعہ حضرت صاحب نے اس کا اہتمام کیا تھا کہ تمام قادیان میں عید کے بعد چھ دن تک <mark>رمضان</mark> ہی کی طرح اہتمام تھا۔آخر میں چونکہ حضرت صاحب کی عمر زیادہ ہو گئی تھی اور بیمار بھی رہتے تھے اس لئے دو تین سال آپ نے روزے نہیں رکھے۔جن لوگوں کو علم نہ ہو وہ سُن لیں اور جو غفلت میں ہوں ہوشیار ہو جائیں کہ سوائے ان کے جو بیمار اور کمزور ہونے کی وجہ سے