فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 51
۵۱ شرائط کے لحاظ سے اس میں کوئی ایسا ستم ہو جس کا ازالہ ہو سکتا ہے تو وہ <mark><mark>نکا</mark>ح</mark> فاسد کی لائے گا اور جب یہ ستم دور ہو جائے تو یہی <mark><mark>نکا</mark>ح</mark> صحیح ہو جائے گا اور اگر کوئی <mark><mark>نکا</mark>ح</mark> بنیادی طور پر حرام ہو یعنی اس کا ستم دور نہ ہوسکتا ہو تو وہ <mark><mark>نکا</mark>ح</mark> باطل ہو گا اور کوئی چیز باطل <mark><mark>نکا</mark>ح</mark> کو درست نہیں کر سکتی۔نوٹ :۔ہر ایک کی تعریف و تفصیل آئندہ دفعات میں ملاحظہ ہو۔دفعہ نمبر ۱۵ <mark><mark>نکا</mark>ح</mark> صحیح <mark><mark>نکا</mark>ح</mark> صحیح وہ <mark><mark>نکا</mark>ح</mark> ہے جو شریعت کے مطابق ہو اور صحت <mark><mark>نکا</mark>ح</mark> کی جملہ شرائط اس میں موجود ہوں۔تشریح صحت <mark><mark>نکا</mark>ح</mark> کے لئے جیسا کہ قبل ازیں بیان ہو چکا ہے فریقین کی رضامندی، عورت کے ولی کی رضامندی، دو عاقل بالغ گواہوں کی گواہی حق مہر کا وجوب اور مناسب طریق پر <mark><mark>نکا</mark>ح</mark> کا اعلان ضروری امور ہیں۔علاوہ ازیں یہ شرط بھی ہے کہ عورت شرعی موانع سے خالی ہوئی۔ان سب شرائط کی پابندی کے ساتھ جو <mark><mark>نکا</mark>ح</mark> ہو گا شریعیت کی رُو سے وہ <mark><mark>نکا</mark>ح</mark> صحیح ہوگا۔ے دیکھیں دفعہ نمبر د صحت <mark><mark>نکا</mark>ح</mark> ه ان موانع کی تفصیل کے لئے دیکھیں دفعہ نمبر ۸ اور اس کی شرائط شرط نمبرا مع تشریح