فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 190

190 نکاح اپنے فوائد یا اغراض کے لئے اس کی شا<mark>دی</mark> میں روک بن رہے ہیں اس پر اگر قاضی <mark>دی</mark>کھے کہ یہ صحیح ہے تو لڑکی کو اختیار دے سکتا ہے کہ وہ شا<mark>دی</mark> کر لے۔پھر چاہے وہ اس پہلی جگہ ہی شا<mark>دی</mark> کرے جہاں سے وال<mark>دی</mark>ن نے اسے روکا تھا یہ جائز شا<mark>دی</mark> ہوگی۔(خطبات محمود جلد ۳ صفحه ۲۵۳) اسلام نے یہ حکم بھی <mark>دی</mark>ا ہے کہ علاوہ اس کے میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کی نسبت تسلی کرلیں۔عورت کے رشتہ دار بھی تسلی کر لیں کہ واقع میں مرد ایسے اخلاق کا ہے کہ اس سے رشتہ کرنا عورت کے لئے بھی اور آئندہ نسل کے لئے بھی مفید ہوگا اور نکاح کے لئے یہ شرط لگائی ہے کہ مرد کی پسند ہو، عورت کی منظوری ہو اور عورت کے باپ یا بھائی یا جو خاندان کا بڑا مرد ہو اس کی منظوری ہو اور اگر کوئی مرد خاندان میں نہ ہو تو حاکم شہر اس امر کی تسلی کرے کہ کسی عورت کو کوئی شخص دھوکا دے کر تو شا<mark>دی</mark> نہیں کرنے لگا۔عورت اور مرد میں اس <mark>وجہ</mark> سے فرق رکھا گیا ہے کہ مرد طبعا ایسے امور میں حیا کم کرتا ہے اور خود دریافت کر لیتا ہے اور عورت شرم کرتی ہے اور اس کے احساسات تیز ہوتے ہیں جن کی <mark>وجہ</mark> سے وہ جلد دھو کہ میں آ<mark>جاتی</mark> ہے۔پس اس کے لئے اس کے خاندان کے بڑے مرد کی تحقیق اور منظوری یا ایسے کسی آدمی کی عدم موجودگی میں حاکم شہر کی منظوری ضروری رکھی ہے۔چونکہ اسلام میں پردہ کا حکم ہے اس لئے نکاح کے ابتدائی امور طے ہو جانے اور <mark>دی</mark>گر امور میں تسلی ہو جانے پر مرد اور عورت کو آپس میں ایک دوسرے کو کھلے طور پر <mark>دی</mark>کھنے کی اجازت <mark>دی</mark> ہے تا کہ اگر شکل میں کوئی ایسا نقص ہو جو بعد میں محبت کے پیدا ہونے میں روک ہو تو اس کا علم مرد وعورت کو ہو جائے۔انوار العلوم جلد ۸ ، احم<mark>دی</mark>ت یعنی حقیقی اسلام صفحہ ۲۷۲۲۷۱) جہاں تک قاضی صاحب کے اس فیصلہ کا تعلق ہے کہ ایسی صورت میں کہ لڑکی سے اجازت نہ لی ہو نکاح ہر صورت میں ٹوٹا ہوا سمجھا جاتا ہے۔میں اس سے متفق نہیں۔اگر یہ صورت ہو تو ہندوستان اور