درثمین مع فرہنگ — Page 170
نیک مکن کرنا طریق صالحان قوم ہے لیک سو پر دے میں ہوں اُن سے نہیں ہوں آشکار بے خبر دونوں ہیں جو کہتے ہیں بد یا نیک مرد میرے باطن کی نہیں ان کو خبر راک ذرہ وار ابنِ مریم ہوں مگر اُترا نہیں میں چرخ سے نیز مہدی ہوں مگر بے تیغ اور بے کارزار ملک سے مجھ کو نہیں مطلب نہ جنگوں سے کام کام میرا ہے دلوں کو فتح کرنا کے دیار تاج و تخت ہند قیصر کو مبارک ہو مدام اُن کی شاہی میں میں پاتا ہوں رفاہِ روزگار مجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جدا مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوان یار ہم تو بستے ہیں فلک پر اس زمیں کو کیا کریں آسماں کے رہنے والوں کو زمیں سے کیا نقار 6 ملک روحانی کی شاہی کی نہیں کوئی نظیر گو بہت دنیا میں گذرے ہیں امیر و تاجدار دارغ لعنت ہے طلب کرنا زمیں کا بغرز و جاہ جس کا جی چاہے کر سے اس داغ سے وہ تن زنگار کام کیا عزت سے ہم کو شہرتوں سے کیا غرض گروہ ذلت سے ہو راضی اُس پر سو عزت بشار ہم اسی کے ہو گئے ہیں جو ہمارا ہو گیا چھوڑ کر دنیا تے دُوں کو ہم نے پایا وہ نگار دیکھتا ہوں اپنے دل کو عرشِ رَبُّ العالمین قرب اتنا بڑھ گیا جس سے ہے اترا مجھ میں یار دوستی بھی ہے عجب جس سے ہوں آخر دوستی املی الفت سے الفت ہو کے دو دل پر سوار 170