دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 34

۳۴ میں کہتا ہوں اک بات اے نیک نام ! ذرا غور سے اُس کو شنیو تمام کہ بے شک یہ چولہ پُر از نور ہے تمرد ، وفا سے بہت دور ہے دکھائیں گے چولہ تمہیں کھول کر کہ دو اُس کا اثر ذرا بول کر یہی پاک چولہ رہا اک نشاں گرو سے کہ تھا خلق پر مہرباں یہی فخر سکھوں کا ہے سربسر گئے سرنگوں اسی پر دوشالے چڑھے اور زر یہی ملک و دولت کا تھا اک ستوں عمل بک کئے خدا کے لئے چھوڑ اب بغض و کیں ذرا سوچو باتوں کو ہو کر امیں وہ صدق و محبت وه مهر و وفا رکھتے تھے تم برملا جو نانک سے ہو دکھاؤ ذرا آج اُس کا اثر اگر صدق ہے جلد دوڑو ادھر گرو نے تو کر کے دکھایا تمہیں وہ رستہ چلو جو بتایا تمہیں کہاں ہیں جو نانک کے ہیں خاک پا جو کرتے ہیں اُس کے لئے جاں فدا کہاں ہیں جو اس کے لئے مرتے ہیں جو ہے واک اُس کا وہی کرتے ہیں کہاں ہیں جو ہوتے ہیں اُس پر نثار جھکاتے ہیں سر اپنے کو کر کے پیار کہاں ہیں جو رکھتے ہیں صدق و ثبات گرو سے ملے جیسے شیر و نبات کہاں ہیں کہ جب اُس سے کچھ پاتے ہیں تعشق سے قرباں ہوئے جاتے ہیں