دُرِّثمین اُردو — Page 22
۲۲ کہ دیکھا نہ ہو جس نے وہ پارسا وہ چولہ کو دیکھے کہ ہے رہنما جسے اُس کے مَت کی نہ ہووے خبر وہ دیکھے اسی چولہ کو اک نظر اُسے چوم کر، کرتے رو رو دعا تو ہو جاتا تھا فضل قادر خدا اسی کا تو تھا معجزانہ اثر که نانک بچا جس سے وقت خطر بچا آگ سے اور بچا آب سے اُسی کے اثر سے، نہ اسباب سے ذرا دیکھو انگر کی تحریر کو کہ لکھتا ہے اس ساری تقریر کو یہ چولا ہے قدرت کا جلوہ نما کلام خدا اس پہ ہے جابجا جو شائق ہے نانک کے درشن کا آج وہ دیکھے اسے، چھوڑ کر کام و کاج برس گزرے ہیں چار سو کے قریب یہ ہے نو بہ نو اِک کرامت عجیب یہ ناٹک سے کیوں رہ گیا اِک نشاں بھلا اس میں حکمت تھی کیا در نہاں میں یہی تھی کہ اسلام کا یہ ہو گواہ بتا دے وہ پچھلوں کو نانک کی راہ خدا سے یہ تھا فضل اُس مرد پر ہوا اُس کے دردوں کا اک چارہ گر یہ مخفی امانت ہے کرتار کی یہ تھی اِک کلید اُس کے اسرار کی محبت میں صادق وہی ہوتے ہیں کہ اس چولہ کو دیکھ کر روتے ہیں سنو مجھ سے اے لوگو! نانک کا حال سنو ! قصه قدرت ذو الجلال ! وہ تھا آریہ قوم سے نیک ذات خردمند، خوش خو، مبارک صفات