دُرِّثمین اُردو — Page 15
۱۵ اس خدادانی پہ تیرے مرحبا ہے وہی اکثر پرندوں کا خدا مولوی صاحب! یہی توحید ہے سچ کہو کس دیو کی تقلید ہے؟ کیا یہی توحید حق کا راز تھا؟ جس پہ برسوں سے تمہیں اک ناز تھا کیا بشر میں ہے خدائی کا نشاں؟ الا ماں ایسے گماں سے الاماں! ہے تعجب آپ کے اس جوش پر فہم پر اور عقل پر اور ہوش پر کیوں نظر آتا نہیں راہِ صواب؟ پڑ گئے کیسے یہ آنکھوں پر حجاب کیا یہی تعلیم فرقاں ہے بھلا مومنوں پر کفر کا کرنا گماں کچھ تو آخر چاہیے خوف خدا ہے یہ کیا ایمانداروں کا نشاں؟ ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں دل سے ہیں خدام ختم المرسلین شرک اور بدعت سے ہم بیزار ہیں خاک راہ احمد مختار ہیں سارے حکموں پر ہمیں ایمان ہے جان و دل اس راہ پر قربان ہے دے چکے دل اب تنِ خاکی رہا ہے یہی خواہش کہ ہو وہ بھی فدا تم ہمیں دیتے ہو کافر کا خطاب کیوں نہیں لوگو تمہیں خوفِ عِقاب سخت شورے او فتاد اندر زمین رحم کن بر خلق اے جاں آفریں کچھ نمونہ اپنی قدرت کا دکھا تجھ کو سب قدرت ہے اے رب الوریٰ ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ ۷۶۴ ۔ مطبوعہ ۱۸۹۱ء