دُرِّثمین اُردو — Page 169
۱۶۹ سر کو پیٹو آسماں سے <mark>اب</mark> کوئی آتا نہیں <mark>عُمر</mark> <mark>دنیا</mark> سے بھی <mark>اب</mark> ہے آ <mark>گیا</mark> ہفتم ہزارے اس کے آتے آتے دیں کا ہو <mark>گیا</mark> قصہ تمام کیا وہ تب آئے <mark>گا</mark> جب دیکھے <mark>گا</mark> اس دیں کا مزار کشتی اسلام بے لطف خدا <mark>اب</mark> غرق ہے اے جنوں کچھ کام کر بریکار ہیں عقلوں کے وار مجھ کو دے اک فوق عادی خدا جوش و تپش جس سےہو جاؤں میں غم میں دیں کے اک دیوانہ وار وہ ل<mark>گا</mark>دے آگ میرے دل میں ملت کیلئے شعلے پہنچیں جس سے ہر دم آسماں تک بیشمار اے خُدا تیرے لئے ہر ذرہ ہو میرا فدا مجھ کو دکھلا دے بہار دیں کہ میں ہوں اشکبار خاکساری کو ہماری دیکھ اے دانائے راز کام تیرا کام ہے ہم ہو گئے <mark>اب</mark> بے قرار اک کرم کر پھیر دے لوگوں کو فرقاں کی طرف نیز دے توفیق تا وہ کچھ کریں سوچ اور بیچار ایک فرقاں ہے جو شک اور ریہ سے وہ پاک ہے بعد اس کے طرنِ غالب کو ہیں کرتے اختیار کتب س<mark>اب</mark>قہ اور احادیث صحیحہ سے ث<mark>اب</mark>ت ہے کہ عمر دُنیا کی حضرت آدم علیہ السلام سے سات ہزار برس تک ہے۔اسی کی طرف قرآن شریف اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے کہ اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ۔یعنی خدا کا ایک دن تمہارے ہزار برس کے بر<mark>اب</mark>ر ہے اور خدا تعالیٰ نے میرے دل پر یہ الہام کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک حضرت آدم سے اسی قدر مدت بحس<mark>اب</mark> قمری گذری تھی جو اس سورۃ کے حروف کی تعداد سے بحس<mark>اب</mark> <mark>اب</mark>جد معلوم ہوتی ہے اور اس کے رُو سے حضرت آدم سے <mark>اب</mark> ساتواں ہزار بحس<mark>اب</mark> قمری ہے جو دُنیا کے خاتمہ پر دلالت کرتا ہے اور یه حس<mark>اب</mark> جوسوره والعصر کے حروف کے اعداد نکالنے سے معلوم ہوتا ہے یہود ونصاری کے حس<mark>اب</mark> سے قریباً تمام و کمال ملتا ہے۔صرف قمری اور شمسی حس<mark>اب</mark> کو لحوظ رکھ لینا چاہیے اور ان کی کت<mark>اب</mark>وں سے پایا جاتا ہے جو مسیح موعود کا چھٹے ہزار میں آنا ضروری ہے اور کئی برس ہو گئے کہ چھٹا ہزار گذر <mark>گیا</mark>۔منہ