دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 12

۱۲ سرائے خام دنیا کی حرص و آز میں کیا کچھ نہ کرتے ہیں نقصاں جو ایک پیسہ کا دیکھیں تو مرتے ہیں زر سے پیار کرتے ہیں اور دل لگاتے ہیں ہوتے ہیں زر کے ایسے کہ بس مر ہی جاتے ہیں جب اپنے دلبروں کو نہ جلدی سے پاتے ہیں کیا کیا نہ اُن کے ہجر میں آنسو بہاتے ہیں پر اُن کو اُس سجن کی طرف کچھ نظر نہیں آنکھیں نہیں ہیں کان نہیں دل میں ڈر نہیں اُن کے طریق و دھرم میں گولاکھ ہو فساد کیسا ہی ہو عیاں کہ وہ ہے جھوٹ اعتقاد پر تب بھی مانتے ہیں اُسی کو بہر سبب کیا حال کر دیا ہے تعصب نے ، ہے غضب دل میں مگر یہی ہے کہ مرنا نہیں کبھی ترک اس عیال و قوم کو کرنا نہیں کبھی اے غافلاں وفا نہ کند ایں سرائے خام دنیائے دُوں نماند و نماند به کس مدام 000 سرمه چشم آر یه صفحه ۸۹ - مطبوعہ ۱۸۸۶ء