دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 92
* ۹۲ این چه استاد نا قصت آموخت این چه قیر خدا دو شیت دوخت تیرے ہاتقول استاد نے یہ تجھے کیا سکھایا ہے اور بعد کے ترانے تیری دونوں آنکھیں کیونکر امیں لیوٹر کی دی ہیں سی ای چه از فکر خود خطا نوردی اور الن در دسے آور دی اپنی عقل کی وجہ سے تو نے بی کی اعلی کی بہو نے تو شراب کے مٹکے میں سے پہلا کام ہی چھوٹ کا نکالا چون شود عقل ناقصت چو خدا خاک زادے جہاں پر دبہ سما تیری ناقص نقل خدا کے را کی طرح ہوسکتی ہے ایک خاکی وجود اڑ کر آسمان تک کیو نکر پہنچ سکتا ہے۔ آنچه صد سرو و صد خطا وارد علم آل پاک از کجا آرد: عقل جو خود صد یا سہو و خطا میں مبتلا ہے وہ اس خدائے پاک کا علم کہاں سے سوکن را شنا کنی هیهات این چه سهو و خطا کنی هیهات سود خطاکنی : لائے افسوس کہ تو کھولنے والی عقل کی تعریف کرتا ہے۔ یہ کیا سہو اور خطا کر رہا ہے تجھ پر افسوس آنچه لغزو بر قدم صد بار چول نو در با رساندت بکنار کو ہر قدم پر تو سنو وقعہ عرش کھاتی ہے وہ تجھے دریا میں سے کنارہ تک کینک پہنچا سکتی ہے ۱۰۰ این بات اس سے چشمه | این سراب است ہوئے ان منشتاب می نماید یہ دور چشمه آب یہ و عقل ، تو سراب ہے اس کی طرف جانے ہیں جلدی نہ کر جو دور سے پانی کا چشمہ نظر آتی ہے استی تو شکسته است و خراب با ز افتاده در زیک گرداب بان | تیری کشتی شکستہ اور خراب ہے پھر بھنور کے چکر میں بھی پڑ گئی ہے ناز کم کن ہیں چنین کشتی کم خمام اسے دنی بدین زشتی ایسی کشتی پر فخر نہ کر۔ اسے ذلیل انسان اس بدصورتی کے باوجود مٹک کر نہ چل