دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 87

باره عمر رفت در خوبه دی پاره را بسر کشی بردی عمر کا ایک حصہ کو بچپن میں گزر گیا۔ اور ایک حصہ تو نے سرکشی میں ضائع کر دیا تازه رفت و با هم پس خورده دشمنان شاد و یا به آزرده حدہ جسے پہلے گئے اب میں خوردہ باقی رہ گیا۔ دشمن خوش ہیں اور دوست عملیں ہیں سوچو تو مجھے بخورد زمیں سر ہنوزت پر آسمان از کیں تیری طرح کے سینکڑوں جنمبروں کو زمین کھاگئی گر بھی تیرا سر شمنی کی وجہ سے آسمان پار ہے یشتر از وضح عالیم گذران چون کند از زبان حال بیالی صد اندرونه اس گذر جانے والے جہان کی روش سے یہ بات سن کر کس طرح وہ زبان حال سے بیان کرتا ہے۔ کھیں جہاں یا کسے وفا نہ کند کند صبر تا مجدا نہ کند۔ کہ یہ جہان کسی کے ساتھ وفا نہیں کرتا اور جب تک اپنے سے جدا نہ کر لے اُسے صبر نہیں آتا گر بود گوش بستوی صد آه از دل مرده درون تباه اگر تیرے کان ہوں تو سینکڑوں آہیں سنے گا۔ اس مردہ دل سے تین کا اندرونہ بناہ ہو چکا ہے که چرا رو بیافتم تو خدا دل نهادم در آنچه گشت بدا کر میں انے کیوں خدا سے منہ سے منہ موڑا اور اس اس چیز سے دل لگایا جو مجھ سے جدا ہوگا ہوگئی قدیر این رو بپرس اند اموات سے لیا گور ها پیر از حسرات اس رشتے کی قدر مردوں سے پوچھ بہت سی قبریں ہیں جو حسرتوں سے بھری پڑی ہیں کی جائے آن ست کو نہیں جائے از توزیع برول نہی پائے مناسب نہیں ہے کہ میں ہے کہ تو ایسی جگہ سے تقوی اور پر ہیزگاری کے ساتھ کوچ کر جائے