دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 79
۷۹ ود اس جذبہ کلام شهدا که دل شان به بود از دنیا عام انہی کی کشش ہی تو تھی میں نے اُن کے دلوں کو دنیا کی طرف سے ہٹا دیا سینه شال زیر حتی پرداخت و از مئے عشق آن یگاں پر ساخت ان کے سینہ کو غیر اللہ سے خالی کر دیا۔ اور اُس یگانہ کی محبت کی شراب سے پھر دیا چون شد اس نور پاک شال شان | سافت از پرده بدر کامل شال جب وہ پاک نور ان میں رچ گیا۔ تو پر وہ میں سے بدید کامل چمن کا د را در دورانی دور شد هر حجاب ظلمانی شد سراسر وجود وہ ظلمت کے حجابوں سے دور ہو گیا اور سراسر نورانی وجود بن گیا خاطر شال بجذب پنهانی کرد مائل به عشق ربانی ان کے دل کو ایک مخفی کشش عشق ہے ہدا کے عشق کی طرف مائل کر دیا۔ اینچ نرالی عشق نیز مرکب راند که از ان مشت خاک بینچ نمانده نے آیا تیر مر گھوڑا دوڑایا کہ اس مشتِ خاک کا کچھ بھی باقی نہ سکا مجھ بھی پانی : نے خودی ماند نے جواد نہیں کی اور قتادہ خاک و خوں سرکس نه خودی رہی نہ حرص و ہوا ہی رہی ۔ گویا کسی کا سرخاک اور خون میں پڑا ہو عاشقان جلال روئے محمد طالبان زلالی ہوتے خُدا وہ خدا کے جلال کے عاشق ہیں۔ اور خدا کی نہر کے مصفیٰ پانی کے طالب پر ز عشق و نهی زہر آنے کشت و زانیان نخاست کرانے سے فین اسے بھر گئے اور برائی سے خالی ہو گئے بھی نے ان کو قتل کر دیا اور ان کی آواز بھی نہ نکلی 7: