دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 67

44 یمت انحدر گوری بہ عمرے پر روت گوش ست اور نشتی دست به قال جلال را سے لکھے نہیں کہنا چاہیے و ساری عمر ابھی یہی ہونہ ہو ان کان ہے میں نے کبھی محبوب کی بات سنی ہو دیر این احمد به حصه سوم حاشیه صفحه ۲۰۴) الا اسے کمر بستہ پر افترا من خوشین را بہ ترکی جیا ے وہ نہیں نے افترا پر کر باندھ رکھی ہے خبر دار ہو یا اپنے نہیں ہے بجھا بن کر ہلاک نہ کر الخاصان منی کیرات نا کچا گئے شرمت آید نہ گیہاں مخدا ندا کے خاص بندوں سے کب ایمنی کرتا رہے گا کبھی تجھے اس جہان کے پروردگار سے شرم آنی سیاسی جو چیزی بود روشن اندر رہی بی برو هرچه بندی بود پلی کونی ایرانی خوب کی وجہ سے اعلی ہو وہ بھی اس پر الزام لگائے گا وہ یہ تو ہی کہلائے گا ر بزنیک گوهر گوهرگان گمان بدیری بدانند مردم که بدا به گوهری جب تو کسی نیک آدمی پر بد گمانی کرے گا تو لوگ سمجھ لیں گے کہ تو خود بہ اصل ہے آدی پر ہنگائی گا تو لیں گے سر تو خود بہ اصل چو گوئی اور پاک را پر بار بار دو چشت شود و آشکار جب تو روشن مورتی کو دھندا کہے گا کہ اس سے تیری آنکھوں کا دھندلا پن ظاہر ہوگا۔ سخنانے پر محبت دے مغزو نام بود بر نبیٹیاں نشانے تمام گندی ۔ بے معنی اور بے ہودہ بانہیں نیتوں کی بغاشت کو ہی ظاہر کرتی ہیں مایند گفتن سخن موزه دروغ بر حق ندارد دروغی فروغ رما کے جھوٹ کے دور کچھ کتا نہیں جانتے مگر سچ کے سامنے جھوٹ فروغ نہیں پاسکتا