دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 63

اگر اس کجا عقلی که از خورداندش | فهد آن شخصی که او فرماندش وہ کونسی معقل ہے جو خود اس کی معرفت رکھتی ہے۔ یہ وھی سمجھ سکتا ہے جسے خدا نود سمجھائے تقل ہے۔ پمیش دیتے داری براہ بت پرستی ہا کی شام دیگاه اس کی وحی کے بغیر مقتل تیرے راستے ہیں ایک ثبت کی طرح ہے اور تو صبح و شام ثبت پرستی کر رہا ہے پیش چشمت گر در این ثبت بعید از مشرک تو شدے ہوئے رواں تیری اکھوں کے سامنے یہ بت ظاہر ہوجاتا تو تیری آنکھوں سے آنسوؤں کی نہر جاری ہو جاتی لیک از بد قسمتی چشمت نماند بت پرستی آخریت پول ثبت نشاند لیکن قیمتی ہے کہ تیری آنکھ ہی رہی۔ اور بت پرستی نے آخر کار مجھے بھی بہت کی طرح بٹھا دیا عقل در اسرار حق میں نار است آنچه که گر می رسد هم از خداست عاتی اسرار سمجھے میں حق بہت کروہ ہے جوبات گاہ گاہ سے مل جاتی ہے ہمیں ناہی کی طرف سے ہے۔ گر خر و پاکیزہ رائے آور و آں نہ از خود هم زجائے آورد اگر مقتل رکبھی کوئی حمد را سے دیتی بھی ہے تو وہ اس کی اپنی خوبی تھیں۔ بلکہ وہیں سے لاتی ہے تو به عقل خویش در کبر شدید ما فدائے آنکه او عقل آفرید مافدائے آنکه او تو اپنی معقل پر نازاں ہوکر سخت متکبر ہو گیا ہے اور ہم اس پر فدا ہیں جس نے خود نقل کو پیدا کیا در قیاسات تہی جانت امیر جان ما قربان علیم آن بصیر تیری جان خالی خولی قیاسوں میں گرفتار ہے۔ مگر ہمارہ دیگر ہماری جان اس بینا خدا کے علم پر قربان ہے۔ تیری بیان خاطر ایک دو پا نیکان دار دوسرے گرفت سے زند در گوھرے با نیک دل انسان نیکوں سے تعلق رکھتا ہے اور با گوھر آدمی موتی پر تھور کیا ہے۔ با ۔