دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 60 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 60

این ن خانم پنجره میان است و دین دم زدن در جنب رب العالمین | ہیں تھیں جانتا کہ یہ کونسا دین و ایمان ہے کہ ناپاک انسان خدا کے مقابلے میں دعوے کرے یکھے تو کجا و آن قادر مطلق کجا تو بہ کن این الهی با کم نما کہاں اور وہ قادر مطلق کہاں توبہ کر اور ایسی بیوتونیاں ظاہر نہ کر یکہ سے گر شی فیش کم شود این همه خلق و جهان بر هم شود اگر خدا کے فیض کا چھینٹا یک لحے کے لیے کم ہو جائے تویہ تمام خلقت اور جہان زیر و زبر ہو جاتے است سنتی لاب استعلا مزن | و از گلیم خویش بیرون پامزان تو ایک حقیر ہی مہنتی ہے بڑائی کی بات نہ مارہ اور اپنی چادر سے پاؤں باہر نہ نکال ندارہ ا بر آن باشد که پیش خانی است عارفت آل کو گریدش لاثانی است بندہ وہ ہے جو خدا کے سامنے ہیچ ہے عارف وہ ہے ہو اُسے لاثانی کہتا ہے نوشین را نیک اندیشیده لینے مبارک الله چه بد نمیده تو نے اپنے تئیں نیک خیال کر لیا ہے خدا مجھے ہدایت دے ۔ کیسا غلط سمجھا ہے۔ این چنینی بال از بالا و پری یا گر زال ذات بیچوں منکری کو اتنا اونچا اونچا کیوں اڑتا ہے؟ شاید تو اُس بے مثل ذات کا منکر ہے کار دنیا را چه دیدستی بنا است خوش افتادست این قانی سرا دنیائے مہستی کی بنیاد کو تو نے کیا سمجھا ہے ؟ کیا تجھے یہ سرائے فانی اچھی لگنے لگی اول چرا عاقل به بند داند این ناگهان باید شدن یوں انہیں عاقل اس سے کیوں دل لگائے۔ جب کہ اچانک اس سے نکلنا پڑے :