دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 57

بہت آں آپ بقابس نا پدید حسن بیگر مصباح حق رانش ندید وہ آپ بات بالکل مخفی ہے۔ اور اس کا راستہ خدائی چراغ کے بغیر کسی نے نہیں دکھا این ادا و به زودی می رسد ان خیالاتی که بینی از خود پر تو آن هم زروجی می رسد خورد وہ خیالات ہو تو اپنی عقل سے معلوم کر لیتا ہے۔ اُن کی روشنی بھی خدا کی وحی سے نکلتی ہے وہ ایک چشمه دیدنت چون باز نیست | میں دل تو محرم این راز مهمیست لیکن چونکہ تیری روحانی آنکھ کھلی ہوئی تھیں۔ اس لیے تیرا دل اس راز سے واقف تھیں سرکشی از محق که من دانا دلم ! | حاجت و میش مدارم عاظم تو معدہ کا نافرمان ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہیں دانا ہوں اور اس کی بھی کی مجھے ضرورت نہیںمیں مل رکھتا ہوں لفرش تو حاجتے پیدا کند در دے عقل سے رسوا کن عقل نزار سوا کند مگر تیری شوش تجھے حاجتمند بنادے گی۔ اور دم بھرمیں تیری عقل کی قلعی کھول دے گی مشکل نوگی سے مقبض البول مان درویش پیست یک اتنے زبوں تیری عقل باہر سے پختہ مقبرہ کی مانند خوشنما ہے مگر اس کے اندر کیا ہے؟ ایک گھند کی لاش انتہائے عقل تعلیم خدا است هر صداقت را ظهور از انبیاست خدا کی تعلیم ہی عقل کے کمال کو پہنچتی ہے۔ اور انبیاء سے ہی ہر صداقت کا ظہور ہوتا ہے بر که علی یافت از تعلیم یافت | تافت اس لئے کر ور نے منافقت جس نے کچھ حاصل کی وہ تعلی سے حاصل کیادہ نہ روشن ہو گیا جس نے خدا سے رخ نہ پھیلا انیان حال گوید روز گار نے قصیر التمر گیر آموزگار: وقت نہ بان حال سے کر رہا ہے کہ اسے تھوڑی عمر والے انسان استاد پکڑ