دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 44
۴۴ ہوتی اہر کیسے رہا نخود سر و کارے کا یہ دلدادگای بدلیا رے | شخص کو اپنے کام سے کام ہوا ہے مگر عاشقوں کو مت دلدار سے فرض پاک ہے پہر کے را بعوت خود کار نظر ایشان همه بوت یاری ہر شخص کو اپنی عورت کا خیال رہتا ہے۔ گرم ان کا سب فکر یاد کی عزت کے لی ہے انو سهر خویش نافته از دین حاصل روزگار تو همه کیس | تو نے اپنا سردین کی طرف سے پھیر لیا ہے۔ تیری زندگی کا ما حصل صرف عداوت ہے اور عناد و فساد افتاده | داد و دانش مروست خود داده کو تو جھگڑے اور فساد میں پڑا ہوا ہے اور انصاف اور عقل کو جواب دے رکھا ہے اسیر کشیده ناز و کیر و بیا و از تمرین نهاده بیرون پا تھی اور تکبر اور دریا سے اکڑ رہا ہے اور دینداری کی حمد سے باہر نکل گیا ہے۔ اجمل خدارات نداد نور دروں | اعقل و ہوش تو جلد گشت نگوں چونکہ خدا نے مجھے دل کا نور تمھیں کوریا اس لیے تیرے عقل و ہوش سب اُلٹے ہو گئے اکثر گوئی عبادت انگاری افسق ورزی ثواب پنداری تو کفر کہنے کو عیادت سمجھتا ہے ۔ اور ہرکاری کو ثواب جانا ہے اصد حجابت بچشم خویش فرا | بانه گوئی که آفتاب کجا تیری آنکھ کے سامنے سو پردے پڑے ہیں پھر پوچھتا ہے کہ سورج کہاں ہے پیده هم دارد تا به بینی پیش | جان ما سوختی بکوری خویش پر وہ اٹھانا کہ تجھے سامنے کی چیز نظر آئے تو نے اپنے اندھے پن سے ہمارا دل جلا دیا