دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 42
ا هر چه دلبر ید و کند آن به | دیدن طبرش زهد جان به | معشوق بروہی سلوک میں کے ساتھ کر لے ہی بہتر ہوتا ہے اپنے دار کا دکھنا اسے سو جان سے بڑھ کر ہوتا ہے یا به زنجیر پیش دلدارے بہ ز ہجران و سیر گلزار پے وادار کے سامنے یا یہ دنیا اور اس کے لیے اس برائی سے بہتر ہے جس میں گلزار کی سیر ہو اہر کہ دارد یکے دلا را ہے جو بو سلش نیابد آرامے جو شخص کا ایک ہی دل آرام ہے تو اسے سوائے اس کے دل کے آرام ہی تھیں کتنا ا شب به بستر سید ز فرقت بار اسمه عالم بخواب و او بیدارم مات پھر وہ دوست کی جدائی میں بہتر یہ تڑپتا ہے سب دنیا ہوتی ہے وہ جاگ رہا ہوتا ہے تا نه بینید صبوری اش نماید هر دوشش سیل عشق بر باید جب تک اُسے نہ دیکھ لے اُسے صبر نھیں آتا ہر لحل " محبت کا سیلاب اُسے بہائے لیے جاتا ہے۔ اور دل عاشقان قرار کیا تو یہ کردن نہ رونے یار کجا عاشقوں کے دل کو بھلا آرام کہاں ! یار کے پہلے سے توبہ کرنا پر معنی دارد؟ ان جاناں نگرش خاطر نشان | گفت رازی که گفتنش متوال مجوب کے حسن نے اُن کے دل کے کان میں ایک ایہا ر از کر دیا ہے جو بیان نہیں ہو سکتا میں مست سیرت عشاق | | صدق در زال بایز و خلاق عاشوان کی سیرت ایسی ہوا کرتی ہے کہ وہ خدا کے ساتھ سچائی کا معاملہ رکھتے ہیں جال منور به شمع صدق و یقین | انور حق تافته بلوچ جیں ان کی جان بچائی کی شرح سے روشن ہوتی ہے اور نور میں ان کی پیشانی سے پھوٹ پھوٹ کر نکلتا ہے