دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 377
τ تیریش نہ کے خطا نہ کر دست از ناوک او اماں چہ ہوئی اس کا تیر امیر سے کیا امان اس کا تیر کبھی خطا نہیں گیا اس کے تیر سے کیا امان ڈھونڈتا ہے بر کاخ فلک نرا بخوانند از نهار و خس آشیاں چہ جوئی تجھے تو فرشتے آسمان کی طرف بلا رہے ہیں۔ پھر تو گھانس پھونس کا گھونسلہ کیوں تلاش کرتا ہے۔ فرخ در یار را فرا گیر پیرامین این و آن چه جوئی اے فرح یاد پیار کی چوکھٹے کو اختیار کر۔ زید و انجر بکر کے ارد گرد کیا پھرتا ہے۔ وتشجيد الاذہان فروری ۱۹۱۱) ن رو جهانی را نشناخته ام همین اند و وجانی را شناخته ام تو دونوں بعد ان کا نور ہے میں نے مجھے پہچان لیا ہے سب کی ہیں اور تو بیان ہے میں نے مجھے پہچان لیا ہے دونوں جہاں کا ہے میں چھے ہے اس کی اور زبان ہےمیں نے مجھے لیا۔ مردم بوده و عشق منم را خبر نشد صداه کردم و بدل او اثر نشد میں عشق کے درد سے مر گیا گرا صنم کو خبر تک نہ ہوئی سینکڑوں ہاہیں ہیں مگر اس کے دل پر اثر نہ ہوا د ان شال روی زمن اسے یار مه دم دستم نمی رسد که دلت برای خود کشی ا ہے ہر سمت کو بڑی بھائی کے ساتھ میرے پاس گزارا ہے گر مجھ میں یہ طاقت میں کرنے کاکہنی الی السی کا مد تمام شهر به مجاره په سی ام ان شور خود میں کر بدین طرف و گرد نام شہر میری بیمار پیپسی کے لیے آیا مگر اس شیخ شیشم کو دیکھ کہ اُس نے ادھر کا رخ بھی نہ کیا 44 اے مونس جان بے قرارم فرسود از علم من نزارم - کے مارے والا ہو گیا ہے اے میری بے قرار ہان کے رفیق میرا کمر درحیم قم کے ے فرح حضرت اقدس کا قدیمی خالص ہے۔