دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 357
۳۵۷ اور شور و مه شکی نه گیرد راه تورز دادار خویش دیده بخواه چاند باند اور اور سورج کے بارے میں کسی کو شک نہیں ہوا کر تا تو ہی اندھا ہے نہیں اپنے خدا سے سے بصیرت بغیرت بانگ لیتی طالب حقیقت راز اس میں شکل است اسے ناسان اے نا اہل۔ ساری مشکل یہی ہے۔ کہ حقیقت راز کا طالب نہیں ہے این مگر من محافظ دنیم خود شفا بخش دین میکنم ہے یہ نہ کہو کر ہمیں دین کا محافظ ہوں۔ اور میں خود ہی دین مسکین کا طبیب بھی ہوں در ولت صد ہزار بیماری چہ ادیں دل تو قصے داری تیرے دل میں تو ہزاروں بیماریاں ہیں ۔ پھر کچھ ایسے دل سے کیا امید رکھتا ہے ید بادے بنگاه از دا دارد تا خس و خانه تو برد یکبار و خالہ خدا سے آندھی طلب کرے تاکہ وہ تیرا سب کوڑا تیرا سب کوڑا کرکٹ اُڑا کر لے جائے۔ جز خدا راه چاره سازی نیست راباند کن دیده جائی بازی نیست خدا کے سور علاج کا اور کوئی رستہ نہیں ۔ آنکھیں کھول ۔ یہ کھیل کی جگہ نہیں ۔ خبرے ہیئت نہ جانانہ سے زنی ہرزہ گام کورا نہ تجھے محبوب کی کچھ بھی خبر نہیں ۔ کی کچھ بھی خبر نہیں ۔ یونی اندھا دھند دھیر قدم اٹھائے چلا جا رہا ہے همچو کرمی بیجز کلام بندا مروہ بستی بغیر جام شهدا خدا کے کلام کے بغیر کو ایک کیڑے کی طرح ہے اور خدا کے جام وصل کے سوالیہ موہ ہے میں یقینی که بخشدت دادار چوں خیال خودت نهد بکنار تین جو خدا تجھے بخشا ہے اُسے تیرا اپنا خیال کسی طرح پا سکتا ہے