دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 33

۳۳ دست خود از حالت از تاک | سپردیم بسیار کس را به خاک ہم نے درد بھر سے دل کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے بکثرت لوگوں کو خاک کے سپرد کیا ہے جو خود دفن کردیم خلقے کثیر | چرا یاد ناریم روز اخیرا جب ہم نے خود بہت سی مخلوق کو دین کیا ہے۔ تو پھر کیوں نہ ہم اپنی موت کا دن یاد نہیں نے رات کا ہے پھر یوں اپنی کادن یاد کہیں از خاطر پورا بیاد شان انگلیم | انه ما آنہیں جسم و روئیں تینیم اپنے دل سے اُن کی یاد کیوں بھلا دیں ہم فولاد تن اور کانسی کے بنے ہوئے تو تھیں ہیں ترس اسے معاند نه قهر خدا | که سخت است قیر خداوند ما اے مخالف ! خدا ! خدا کے غضب سے ڈر کہ ہمارے خدا کا قہر بہت سخت ہے به ناکردن ترین پروردگار ایسا شهر ویران شدند و دیار پروردگار کا خوف نہ کرنے کی وجہ سے بہت سے شہر اور ملک پر یاد ہو۔ ہو گئے - اناں بے ہراساں نشانے نماند انشا نے چریک استخوانی نماند ان بیباک لوگوں کا نشان تک نہ رہا۔ نشان تو کیا ایک ہڈی بھی باقی نہ رہی همه زیر کی در برابیدن است و گرنه بلا بر بلا دیدن است عقلمندی کی ہے کہ انسان در تار ہے ورنہ پھر مصیبت پر مصیبت دیکھنی پڑے گی به ناپاکی و ثبت با دستان | ها از این چنین ریست نازیستن ناپاکی اور گندگی میں زندگی بسر کرنا ۔ ایسی زندگی سے تو مرنا بہتر ہے یاد نہ ہوئے انصاف گام | کین توبه کردن چرا شد حرام ور انصاف کی راہ پر قدم رکھ۔ عداوت کی وجہ سے توبہ کرتا کیوں عوام ہو گیا ؟