دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 344 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 344

هر که جان بر بار باخته است یار با قدر او شناخته است میں نے بھی اپنی جان خدا کے لیے قربان کی بہار سے خدا نے بھی اس کی قدر غروب پہنچائی ہے۔ کی از مگان کمتر است دشمن اور بد گهر کوفته زه باون او کتوں سے بھی بدتر ہے وہ ہر اصل خدا کی اوکھلی میں کو کھا جاتا ہے۔ بست از عادت خدائے علیم می کند فرق در سید ولیم خدائے علیم کی یہ عادت ہے کہ وہ نیک بخت اور بد بخت میں فرق کر دیتا ہے بیچ والی ٹیم را چہ نشان آنکه او دشمن امام زمان را کیا تھے خبر ہے کہ بد بخت کی کیا علامت ہے وہ امام نے ماں کا دشمن ہوا کرتا ہے۔ او مشتریان انکہ او آماز خدا ئے یگاں پیش چشمش دخیل او جو خدائے واحد کی طرف سے آتا ہے اُس بیٹیم کی نظر میں وہ مفتری لوگوں میں سے ہوتا ہے کر نبودے شقی و کریم نہیں شقی و کریم ہیں تو یہ کر دے گفتگوئے چھیں اگر وہ شقی اور زمیں کا کیڑا نہ ہوتا ۔ تو ایسی گفتگو سے تو کاتا آنچه با من کند عنایت یار کے بغیر سے شنیدی اسے مردار کے سے وہ بارہ جو عنایت مجھ پر کرتا ہے اسے بردار کیا تو نے ویسی کسی اور بھی سنتی ہے؟ مجھ پر اسے تونے اور بھی گر شعار بودے ار تو اتقا بو دے مشعل غریب رہنما بو دے اگر کوئی تیرا شعار ہوتا۔ تو غیب کی مشکل تیری رہنما ہوتی انتظارا بود تو صدیق آثار اسے سیہ دل تراب صدق چه کار تقا کی علامت صدق ہے اسے میرا دل انسان مجھے صدق سے کیا مطلب له