دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 340

ومی حق را پوشتوی اور ما این ما یہ این مگو ما نیافتیم جما ہم کو کیوں وہ نہ جب تک ہم سے خدا کی ودیا نے تو کو کر دہ ہم کو تا نه کار دلت بجال برسد چون پیایست نه داستان برسد جب ایک تیرے دل کا کام تمام نہ ہوجائے کس طرح محجوب کا پیغام تیرے پاس پہنچے تا نه از خودی روی بعد اگردی تا نه قربان آشنا گردی ، جب تک تو خود بدی سے الگ نہ ہو اور جب تک تو دوست پر خدا نہ ہو نا نیائی جو نفس خود بیرون تا نہ گردی بروئے اُو مجنوں جب تک تم اپنی نفسانیت سے باہر نہ آئے اور جب تک اس کے چہرہ کا دیوانہ نہ بن جا۔ تانه است شود لیسان تبار تا نه گرد و غبار تو خونبار ماکت تان برو ار بار تو خونبار جب تک تیری خاک بمبار کی طرح نہ ہو جائے اور جب نہ ہو جائے اور جب تک تیرے غبار میں سے خون نہ جائے۔ سے خون نہ سکے سودا تانه خونت چکد برائے کسے نا نہ جانت شود ندائے کسے جب تک تیر انون کسی کی خاطر ہی ہے اور جب تک تیری بیان کسی پر قربان نہ ہو جائے چوں و ہندت بکوئے جاناں راہ چوں ندا آیدیت انسان درگاہ تب تک مجھے کوئے جاناں کا راستہ کیوں کر لے اور ہم اس دار گاہ کی طرف سے تجھے آمرانہ کیونکر ہوئے تو تحریص در اهم و دنیار روز و شب بیان سنگال به مردم تو تو روپے پیسے کا لالچی ہے اور دن رات اسی مردار پر کتوں کی طرح گرا ہوا ہے۔ انہیں حرص و آز و کبر و غرور چون نمانی زکرتے جاناں دور اس قدر الالی حوص تکثیر اور پیروں کے ساتھ کیا وجہ ہے کہ تو کوئے جاناں سے دور نہ رہے ہے