دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 309 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 309

اگر بر آسمان من تاب و دوری تا بر هر بندر روز روش آنکه گم کرده امارت یا اگر آسمان پھٹکڑوں چاند اور سوسی چکنے لگیں نہیں کی نظر جاتی رہی ہے وہ روز روشن کو نہیں دیکھ سکتا تواسے دانا بترس از آکر سونے اور نا ہی وقت پر نیا دل چھلے بندی چه افی وقت ملت را رے وانا قوم اس خدا سے ڈرمین کی طرف تجھے جانا ہے دنیا سے کیا دل لگاتا ہے کیا تو موت کا وقت جانتا ہے ؟ مشوار بیرونی سرکش فرمان احمدیت خرانه برونی چندان سید کی شقوت را دنیا کی خاطر خدائے واحد کے حکم سے سرتابی نہ کر اے مسکن تو چند روز کے مزے کے لیے با نختی نہ خرید اگر ماهی که با بی دو عالم جاه و دولت را خدارا باش و از دل پیشه خود گی طاعت را اگر تو چاہتا ہے کہ دونوں جہان میں موت اور دولت وصل کر لے تو خدا کا ہو جا اور دل سے اس کی فرمانبرداری اختیار کم علام رورش باش و عالم بادشاہی کن بابا شدیم از غیر پرستاران حضرت اس کی درگاہ کا غلام ہیں اور دنیا پر حکومت کر کہ خدا پرستوں کو اس کے غیر سے خون نہیں ہوتا تو ان دل ہونے یار خود بیا تا نیز یار آید محبت می کنند با مهدی جانی محبت را سے ایک اور یا پھر بھی تیری طرف آنے کی کہ ہا ر ان کی وجہ سے ایک بات میری محبت کھینچتی ہے ند در نصرت آنکس بود کو ناصرین است همین افتاد آئین از اول درگاه توت را خدا اس کی مدد میں لگا رہتا ہے جو اُس کے دین کا ناصر ہو۔ ہمیشہ سے درگاہ رب الحرمت کا لینی قانون ہے اگر بار می آید جوان این واقعاتم را که تا بینی قدر به شکم انواع نصرت را ار تجھے یقین نہیں آنا تو یر سے ان واقعات کو پڑھے تا کہ تو میری ہر شکل کے وقت خدا کی نفرتوں کو دیکھ لے هران و یا به ان درگاه از خدمت هم باید که ففات المزائی بست یا جسے بین است را جو شخص بھی اس کی درگاہ سے کچھ پاتا ہے وہ امت سے پاتا ہے کیونکہ رات کے لیے سراہے اور ہر رات کیسے ہوا ہے