دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 303
خیر اول خویشتن را کن درست نکته چین را چشم می باید خست اٹھے اور پہلے اپنے نہیں ٹھیک کر خود نکتہ چین کی اپنی آنکھ پہلے درست ہونی چاہئیے سنتی گر لفتی بر ما کند کند او نه بر ما خویش را رسوا کند کوئی مردود اگر ہم پر لعنت کرے وہ لعنت ہم پر نہیں پڑتی بلکہ وہ اپنے تئیں بد نام کرنا ہے سنت اہل حقا ما سال بود است آن باشد که از حال بود ظالموں کی لعنت ملامت کا برداشت کرنا آسان ہے اصل لحنت تو وہ ہے جو رحمان کی طرف سے آتی ہے حقیقة الوحی صفحه (۳۳۹ - ۳۴۰) چہ شیریں منظری اسے دل شام چھہ شیریں خصلتی اسے جان جانم اے میرے محبوب تو کیسا خوبصورت ہے اور اسے میرے خدا تو کیسا شیرین خصلت ہے ؟ چو دیدم روئے تو دل در تو تو بستم نمانده غیر تو اندر جھان جهانم جب میں نے تیرا منہ دیکھا تو تجھ سے دل لگا لیا اور دنیا میں تیر کے سوا میرا کوئی ہو رہا توان به داشتن دست از دو عالم مگر هجرت بسوز د استخوانم دونوں جہان سے دست برداری ممکن ہے گر تیرا فراق میری ہڈیاں تک بھلا دیتا ہے در انتش تن پاکستانی توان داد از هجرت جان رود با صد فغانم آگ کے اندر ریون آسانی سے ڈالا جا سکتا ہے گر تیری جدائی سے میری جان آمد فعال کرتی ہوئی نکلتی ہے رحقیقت الوحی صفحه ۳۴۰ - ۳۴۳)