دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 301
الهامي شعر سر ته باید نو عروسی را همه مامان کنم و آنچ در کار شما باشد عطائے آن کنم کچھ نیا نائی کے لیے مضر ہے ہیں وہ سب امن کردوں گا اور ہو تیں ہی کام ہو گا وہ بھی عطا کروں گا کیری ضرورت پر رحقیقت الوحی صفحه (۲۳۶) که گوید این مردم و شادی هست و فال به راه ایندی شخص یہ کہتا ہے کہ تو این مرہم کسی طرح بن گیا وہ خدائی راز سے قائل ہے کتا ہے کہ ابن مریم اس خدائے قادر ورب الباد اور برائیں نام من مریم ناد اس قادر خدا اور ریت العباد نے ہر نہیں احمدیہ میں میرا نام مریم رکھا تھا مدتی بودم برنگ مریسی دست تا داده به پیران زمی دست داده به میں ایک مت تک ریم کے رنگ پر رہا مینی مشایخ زمانہ کے ہاتھوں میں ہاتھ نہیں دیا۔ ھیجو بکرے یا ختم نشود نما اور رفیق راه حتی تا هشتاد میں نے ایک کنواری لڑکی کی طرح پرورش پائی ۔ اور کسی عادت کامل سے میری شناسائی نہ تھی بعد از ال آل قادر ورت مجید روح عیسی اندرال مریم و مید اس کے بعد اُس قادر اور مجید تھا تے اُسی مریم میں میٹی کی روح پھونک دی پس پخش رنگ دیگر شد عیاں ز اوزان مریم مسیح ایں زباں پھر اس صلح کے بعد ایک اور رنگ ظاہر ہوا۔ ابھی اس مریم سے اس زمانے کا صحیح پیدا ہوا