دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 297 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 297

٢٩٧ چه دورخسته دور خسروی آتفاده نکر دونده های مسلمان را مسلمان باز باز کردند جب رہارا، شاہی زمانہ شروع ہوا تو مسلمانوں کو دوبارہ مسلمان کیا گیا مقام او می از راه تحقیر این دورانش رسولان ناز کردم الهای امن کے درجہ کو تحقیر کی نظر سے نہ دیکھ بلکہ رسولوں نے اس کے زمانے پر تار کیا ہے دالشکره رانه زیر یاد نہ خدمت کار ے سات میں ماراست که جانم این دلدار سے است میرے پاس نہ رہی ہے یا رات اور کوئی کام شریک بات کو میری جان اس دلدار کے پاس گرو پڑی ہوئی ہے۔ اتی است برایشن کہاں خدایش بیاد پلیس است و یا اگر ہوں یار سے ہات اس کے چہرہ ہیں ایسی لازت ہے کہ جان اس پر قربان ہے اس کی گلی میں عجب لطف ہے اگر چہ وہاں خون کی بارش ہوتی ہے یح وقت ما کرد آنکه دارای حال میں دلائل دوری اگر یہ کار است خدا نے جب با بی حال دیکھا تو مجھ میری الزمان نیاد یا اب تو میرے دلارے کے دلائل دیکھ کو تیرے نزدیک یہ بیکار اے عشق خوام که آن با کرده است تانے با ہمیں پنج دور دو آرا سے است میں عشق کا علاج نہیں چاہتا کیونکہ اس میں ہماری پاکت ہے ہماری شنقا تو اسی رنج و درد اور پیمانہ کی میں ہے رسال نشيد الاوهان یکم ستمبر ۱۹۰۹ ء دیگر اگر مردی رو مولی طلب کن چندالی روز و شب از بهر مردار اگر تو مرد ہے تو مولی کا راستہ طلب کی اس مردار دونیا) کے پیچھے دن رات کیا روتا رہتا ہے