دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 294 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 294

۲۹۴ هر آن کو بدنیائے ڈول قبلا است گر فتار رنج و عذاب و عنا است ہر وہ شخص جو ذلیل دنیا کے پیچھے پیلا ہے ۔ وہ ریج۔ عذاب اور تکلیف میں گرفتار ہے۔ برت آنکه به صورت دارد نگاه بریده نه دنیا دو دیده براه جو موت کی طرف نظر رکھتا ہے وہی آزاد ہے ۔ دنیا سے کوٹے کہ اس کی دونوں آنکھیں انتظار میں لگی ہیں سفر کرده پیش از سفر وئے یار کشیده و دنیا همه پشت و بار نے سے پہلے وہ یار کی طرف سفر کر گیا۔ اور کونیا سے اپنا سب سامانی اور اسبابت کال کی الگ کر لیا۔ لیئے دار تھے کمر بستہ چست رہا کر وہ سامان این خانه شست کرده آخرت کے لیے اپنی کمر کس کر باندھ لی ۔ اور اس اس نکتے گھر کا کا سامان چھوڑ دیا جو کارہ حیات است کارے نہال ہاں یہ کہ دل تنبلی میں مکاں میں چونکہ زندگی کا کچھ اعتبار نہیں اس لیے یہی مناسب ہے کہ تو اس مکان سے دل کو چھڑا سے جهنم کرد داد فرقاں خیر ہمیں حرص دینی است جهانی پدر وہ جہنم میں کی خبر قرآن نے دی ہے اسے وینا وہ کیسی دُنیا کی حرص ہے و آخر زه وی تاسف کردن است چور نے ایں روگذر کردن است جب آخر کار دنیا سے سفر کرنا پڑے گا اور ایک دن اس راہ سے گزر ۔ براہ سے گزر جاتا ہوگا دی اس راہ سے گزر جاتا چرا ما قلے دل بہ بند و در ال که تا گردونه و برگل اور خیرال تو عقلمند و پھر نشانہ اس سے دل یوں لگائے۔ جب ایک دم اس کے پھولوں پر خواں کی ہوا چلے گی بدین جب بستن دل خود خطا است که این دشمن دین مصدق و صفا است تناول اس آوارہ اورت (دنیا ) سے لگانا غلطی ہے کیونکہ یہ دین اور صدق وصفا کی دشمنی ہے