دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 282
X ۲۸۲ تومان فرو شیطان در پست تا بسوز و در جمجمه چون خست شیطان کی لاکھوں فوج تیرے پیچھے لگی ہوئی ہے تا کہ تجھے گھاس پھوپس کی طرح دوزخ میں جلا دے اتید یا پھر خطرا مے شود ایمان تو زیر و زبرا کسی امید یا نون کی وجہ سے میرا ایمان دیر و زیر ہو جاتا ہے انہ بھائے ایک سرائے ہے وفا نے نہی دین محمدا را زیر پانا نے وفا اس ہے وفا دنیا کی خاطر تو خدا کے دین کو پیروں تلے سسکتا ۔ یں پروین داستے ہیں نگار سے یہ باطن یا بادی چه کار دین تو وہ وہیں ہے جو اس محبوب کے خدائی کا دین ہے اسے ہر باطن شخص تجھے دین سے کیا واسطہ ست بستی لات استعلامزن اور گلیم خویش بیرون پا مزن تو دلیل ہے بہت شیخیال نہ مار اور اپنی گھڑی کسے باہر پاؤں : پھیلا خویشتن را نیک اندیشیده اسے ہلاک اللہ پر ید فهمیده تو اپنے تئیں نیک سمجھتا ہے خدا تجھے بہایت نصیب کرے تیرا خیال کیا غلط ہے ؟ خوش بگرد دوستان از قیل و قال تا میری زندگی با شد محال دہ دلیر محض باتوں سے خوش نہیں ہوتا جب تک تو موت قبول نہیں کرے گا زندگی منی مال ہے کر دیں اور ان سے اصل بات بتا بد بر تو کور ذو الجلال اے پر فصلت انسان تکثیر اور دشمنی کو چھو لینا کہ تجھ پر خدائے ذوالجلال کا نور پڑے انی بالا بالا جل پری یا گریزاں ذات بیچوں منکری تو اتنا اونچا اونچا کیوں اڑتا ہے؟ شاید کرا تو اس بے مثل ذات کا شکر ہے؟