دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 277 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 277

را شکر کر را تر ک من روئے یار خود دیدم چشیدم آن بهر کال لذت نقا باشد۔ ریقا باشد۔ ہزار کہ کھ کر میں نےاپنے یار کم دیکھ لیا وہ ہارنے کے لیے جی میں تھا کی قلت ہے واع دیگر همه شکران دین نشکنم من ایستاده ام ای در کجا باشد یں مکان دین کے مردہ کار کو وی راہوں میں ماہر مقابل پر سالکان ارہا ہوں تو میں حاضر ہوں میرے مقابل پر کوئی وہ سرا کہاں ہے ؟ تا میراند و ما بال هم فشانم تور گر کجا جنہیں قدرت کا بان را باشد میں روشن اور چمکدار سورج کا اور سورج کی طرح نور پھیلا رہا ہوں ۔ دوسرا کہاں ہے یہ احسا یہی قدرت کس میں احساسی ہے ؟ د کار با ک کنم و نشان که بنمایم عمان شود که همه کارم از خدا باشد وہ کام جو میں کرتا ہوں اور ان نشانوں سے ہو یں دکھاتا ہوں یہی ظاہر ہوتا ہے کہ میرا سارا کا بار خدا ار و بارضا کی طرق سے ہے۔ کوں کو چین من هزاران گفت کار از طاب بنشینی بمب خطا باشد اب جبکہ میرے چین میں ہزاروں پھول کھل چکے ہیں اگر تو طلب نہ کرے تو سخت معطلی ہو گی عمر خود و جوری که آن زمان آید که جلوه خوبه با داق العام باشد تو عمر مانگ اور صبر طلب کو حتی کہ وہ وقت آجائے جبکہ ہمارے سورج کی روشنی تان: اور کرنے والی ہوا ہے ر دل کیتا کار را از پوش نگر کی عقل سان هندرت چو دل صفا باشد سے دیکھ اگر تیرا اول صاف ہو گا تو تجھے معطے عقل بھی ملے گی تها چه شد که با نم نشسته مالان که مسلم است که هم مربع صرفا باشد کیا ہوا کہ سوگ میں نمار و نالاں بیٹھا ہے حالانکہ موسم تو ایسا ہے کہ ہر پرندہ چارٹ ہے۔ و کر کفر د باز آکر مو سے آمد که اجتماع همه اهل و انقبا باشد کا ابل تفرقہ انمازی کا خیال چھوڑ دے کہ اب وقت آگیا ہے کہ تمام اہل اسلا اور متقی لوگوں کو جمع کیا جائے