دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 270 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 270

۲۷۰ زمان تعبیر بیایند نوز در خوابی نشنو که هر سحراز الفت این ندا باشد جاگنے کا وقت آگیا مگر ابھی تو نیندمیں ہے سن کہ ہر پچھلی رات کو فرشتہ یہی آواز دیتا ہے علم فضل و کرامت کیسے کما نہ رسد کجاست آنکه نار باب او ما با شد م فضل اور کرامت کے رو سے کوئی تم تک نہیں ہو سکتا کہاں ہے وہ شخص جو علم فضل وکر است کا مدعی ہے۔ من خوب و بعبار و صفا الحجابات و صفا کجا باشد۔ ہزار کو ہزاروں سکتے دکھائے پھر بھی چیکس ایک اور کھرا ہوتے ہیں ہمارے سکتہ کی ہماری نہیں کر سکتا رید که میخادم مشهدی وقت بنان او دگرے کے تالیا با شد کو تائید یافت شخص را یادم اور مہدی وقت ہے اس کی شان کو الفیت میں سے کوئی نہیں پہنچ سکتا غنچہ بو دهان خوش و سر بسته من آمدم بلند و میکه از صبا باشد یہ جان ایک شہر کی طرح بند تھا میں اس کے لیے ان برکتوں کولے کر آیا ہوں جو با و صیالا یا کرتی ہے۔ ه فقه ها که بدست اندرین ایام کدام راه بدی کو در اختفا باشد اس نہ مانہ میں کسی قدر فتنے پیدا ہو گئے ہیں اور کونسا راستہ بدی کا ہے ہو بھی ہے۔ عمال مست کردن خفته باشوی محفوظ مگر ترا و من گام اقتدا باشد نا ممکن ہے کہ جو ان فتنوں سے بچ سکے سوائے اس کے کہ تو میری پیروی کرے کینکه سایه بال بهاش شود عماد بایدش کہ دور سے نقل ما باشد وہ شخص جسے مال ہماتے بھی فائدہ نہ دیا ہو اسے چاہیے کہ دو دن ہمارے زیر سایہ رہے ہو مسلم است را از خدا حکومت عام وهو من بی خدایم که به ما باشد خدا کی طرف سے میری حکومت ثابت ہو چکی ہے کیونکہ میں اس خدا کا مسیح ہوں جو آسمان پر ہے