دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 266
ہ جانے کی کایا پا بر ایران ایل شان به عامه و با باشند عبر کا کیا موقعہ ہے کہ وہ تو ہر انسان کی جائے پناہ میں اپنی کی طفیل سب کی تو میں محفوظ ہیں اگرتن این شال یکہ سے جدا بشوی متناع وائی ایمان تو تو جدا باشد اگر تو ان کی پناہ کی جگہ سے ایک لحظہ بھی جدا ہو تو ایمان کی پونجی اور دولت تجھ سے بعدا ہو جائے گی سراست وزیر تبو مادران خلص را که نار د سر و میکر در بلا باشند ان تخلص راستبازوں کا سر تیر کے نیچے رہتا ہے تا کہ اس قوم کا سر بچ جائے جو مصیبت نہیں ہو طریق اصول شان همه بندی ست و پیر کرم این شال رو میره سر رضا باشد دوست کرم شان ان کا اصول محض ہمدردی محبت اور شفقت ہے اور ان کا طریقہ عاجزی اور رضا کی طلب ایرانیان گرامی فدائے آس دل باد کی مست محور بابائے کبریا باشد دست را ہزاروں سمیتی جانیں اس ایک دل پر قربان ہوں جو دارند کبریا کی ان میں سرش را ر ہے نہ رہتا ہے ۔ ه کنج خلوت پاکل اگر گذر کنی بیان شود که چه نوری درال سر باشد پاک لوگوں کی خلوت میں اگر تیرا گزر ہو تو تجھے معلوم ہو کہ وہاں کیسے کیسے انار برنا علوم ہو کہ وہاں کیسے کیسے انوار رستے ہیں بدولت دور جمال سر فرد نی آرند بخشی با به دل تاریشان دو تا باشد دونوں جہان کی دولت کی طرف بھی یہ لوگ توجہ نہیں کرتے اُن کا دردمند دل محجوب کے عشق میں پور رہتا ہے مناز با کار سینره خرقه پیشین که به بر داق مطمح غریب با باشد میٹر کلاہ اور اونی خرقہ پر نا نہ نہ کرکے ناشتی گڑی کے انچے بہت سے غریب ہوتے ہیں از دست بانوے کی رو سے ایک سوخت و یا اپنے برمی باشد وہی مرد ایسے دست و بازو کے ساتھ خدمت کر سکتا ہے جس کے دل و جانی ہدایت کے لیے پرسوز ہوں